Al-Risala · March 2005 · page 46

Malaysia's Anwar is a free man after six years.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۴۶

یہاں کے جلسوں میں تقریر کے بعد کثرت سے سوالات کئے گئے۔ بلکہ ہر جگہ سوالات کی بھر مار ہوگئی۔ میں ٹھنڈے طریقہ سے ہر سوال کا جواب دیتا رہا۔ اس درمیان سامعین کی طرف سے ایک کاغذ ملا جس پر یہ لکھا ہوا تھا :

ابھی تک کئے گئے سوالوں میں سے کچھ سوال یہ بتاتے ہیں کہ یہ لوگ آپ کی بات کبھی بھی سمجھ نہیں سکتے۔ قرآن میں بھی کہا گیا ہے کہ یہ لوگ ماننے والے نہیں۔ اس کے باوجود آپ ان کے سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ لوگ کبھی سدھریں گے۔ (عبدالسمیع چاؤش)

میں نے کہا کہ کسی انسان کے دل میں سچائی کا اتر نا میری تقریر یا میرے جواب سے نہیں ہوتا بلکہ خدا کی توفیق سے ہوتا ہے۔ خدا جب دیکھتا ہے کہ سوال کرنے والا اپنے سوال میں سنجیدہ ہے، وہ واقعی طور پر حق کو جاننا چاہتا ہے تو خدا کی توفیق سے اس کا سینہ کھل جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ بات کو سمجھے اور اس کو اپنے دل میں بٹھالے۔ مجھ کو یا کسی کو کسی انسان کے دل کا حال معلوم نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ہم پیشگی طور پر کسی کے بارے میں فیصلہ نہیں کر سکتے۔ ہم کو یہی کرنا ہے کہ جب کوئی شخص سوال کرے تو ہم اس کا جواب دیں اور پھر دعا کریں کہ خدا سچی بات کو اس کے دل میں اتار دے۔ اور وہ ایک حق پرست انسان بن جائے۔

تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ ابتدا میں بظاہر یہی معلوم ہوتا تھا کہ یہ شخص بات کو ماننے والا نہیں ہے۔ مگر بعد کو ایسا ہوا کہ اس شخص نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے سچائی کو مان لیا اور اپنی زندگی کو سچائی کے راستے پر ڈال دیا۔

اورنگ آباد سے دہلی کے لیے سفر کرتے ہوئے کچھ چیزیں مطالعہ میں آئیں۔ انڈین ایرلائنس کا فلائٹ میگزین سواگت (Swagat) کا شمارہ ستمبر ۲۰۰۲ برائے مطالعہ جہاز کے اندر موجود تھا۔ میں اپنے سفروں میں اکثر فلائٹ میگزین کی کوئی چیز نقل کرتا ہوں ۔ اس کو دیکھ کر کئی لوگوں کے خط ہمارے پاس آئے کہ ہمیں پتہ بتائیے تا کہ ہم فلائٹ میگزین اپنے لیے حاصل کر سکیں۔ واضح ہو کہ یہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page