امن کا مسئلہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۴
امن کا مسئلہ
جامعہ ہمدرد (نئی دہلی) میں ۲۱ دسمبر ۲۰۰۴ کو اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کا ایک اجتماع تھا۔ یہ اجتماع جامعہ ہمدرد کے بورڈ روم میں کیا گیا تھا۔ پروگرام کے مطابق، امریکا کے ایک سینئر پروفیسر تھیوڈور رائٹ (Theodore P. Wright) نے اپنا ایک مقالہ پیش کیا۔ اس مقالہ کا عنوان یہ تھا۔ US intervention in South Asia & the Middle East. پروفیسر رائٹ کی عمر ۸۰ سال ہو چکی ہے۔ وہ نیو یارک اسٹیٹ یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر تھے۔ وہ ساؤتھ ایشیا کے علاقہ میں بسنے والے مسلمانوں کے مسائل پر امریکی ایکسپرٹ سمجھے جاتے ہیں۔ وہ اس میدان میں پچھلے ۴۰ سال سے کام کر رہے ہیں۔ پروفیسر موصوف کی خواہش پر راقم الحروف نے اس پروگرام میں شرکت کی۔
اس موقع پر ایک سوال یہ سامنے آیا کہ ساؤتھ ایشیا میں امن کس طرح قائم کیا جائے (How to establish peace in South Asia)۔ اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس علاقہ کے لوگ اپنی جدوجہد کو اسلامی جہاد کے نام پر جاری کئے ہوئے ہیں۔ مگر ان کی یہ جدوجہد اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس لیے وہ کامیاب نہیں ہو رہی ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے ایک آیت اور ایک حدیث پیش کی۔ میں نے کہا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: الصلح خیر (النساء ۱۲۸) یعنی صلح اور سمجھوتہ کا طریقہہ زیادہ مفید اور زیادہ نتیجہ خیز ہے۔ صحیح البخاری کی ایک روایت کو پیش کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام کی پالیسی یہ تھی کہ نزاعی معاملات میں اختیارِ اعسر (harder option) کے مقابلہ میں اختیارِ ایسر (easier option) کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ آزادی کا زمانہ ہے۔ موجودہ حالات میں پرامن طریق کار کا راستہ پوری طرح کھلا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے معاملات میں پر تشدد
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues