Al-Risala · April 2005 · page 5

امن کا مسئلہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۵

طریقہ کار اختیار کریں۔ اس پر ایک مسلم پروفیسر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا:

It is too simplistic solution to a very complex problem. اس کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ مسئلہ کے سادہ حل کی بات نہیں ہے بلکہ وہ مسئلہ کے فطری حل کی بات ہے۔ اس دنیا میں فطرت کا جو نظام ہے اس کے مطابق متشددانہ طریقہ کار کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں۔ اس دنیا میں کسی بھی مسئلہ کے حل کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ امن کا طریقہ ہے۔ تشدد کا طریقہ صرف مسئلہ کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ نصف صدی سے زیادہ مدت کی پچھلی تاریخ اس کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔ اس پوری مدت میں مسلمانوں نے تشدد کا طریقہ اختیار کیا اور اس کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دیں۔ مگر مسئلہ اور زیادہ بگڑتا چلا گیا۔

پھر میں نے کہا کہ اس قرآنی فارمولا کی افادیت ہر آدمی خود اپنی زندگی میں پا سکتا ہے۔ ہر آدمی کی زندگی میں بار بار مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ہر آدمی جو اپنی ذاتی زندگی میں کامیاب دکھائی دیتا ہے وہ امن اور سمجھوتہ ہی کے راستہ پر چل کر کامیاب ہوا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ لوگ اپنے ذاتی معاملہ میں تو صلح اور سمجھوتہ کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں اور جب ملی مسائل کی بات آتی ہے تو فورا وہ متشددانہ طریقہ کار کی وکالت کرنے لگتے ہیں۔ لوگوں کی یہ دو عملی (duplicity) بلاشبہ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم دانشوروں کا یہ عجیب تضاد ہے کہ اگر ان سے کہا جائے کہ عراق میں امریکی صدر جارج بش کا متشددانہ عمل درست تھا یا نہیں تو وہ فوراً کہیں گے کہ وہ درست نہ تھا۔ جارج بش کو ہر حال میں پر امن طریقہ پر عمل کرنا چاہیے تھا۔ مگر انہی مسلم دانشوروں سے جب یہ سوال کیا جائے کہ فلسطین میں عربوں کا متشددانہ طریقہ درست ہے یا نہیں تو وہ برعکس طور پر یہ جواب دیں گے کہ وہ بالکل درست ہے۔ ان مسلم دانشوروں کا یہ عجیب تضاد ہے کہ دوسری قوم کے لوگ اگر تشدد کا طریقہ اختیار کریں تو وہ ان کے نزدیک غلط ہوتا ہے۔ لیکن اگر ان کی اپنی قوم کے لوگ تشدد کا طریقہ اختیار کریں تو وہ ان کے نزدیک عین درست بن جاتا ہے۔ اس فکری تضاد میں مذہبی مسلمان اور سیکولر مسلمان دونوں یکساں طور پر شریک ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page