Al-Risala · April 2005 · page 6

مادی ترقی کا سراب

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۶

مادی ترقی کا سراب

موجودہ دنیا میں مادی ناکامی بھی اتنی ہی بے معنی ہے جتنا کہ مادی کامیابی۔ اس کی مثالیں برابر مختلف صورتوں میں سامنے آتی رہتی ہیں۔ مثلاً بمبئی میں ۲۹ جولائی ۲۰۰۳ کو یہ واقعہ ہوا کہ ۲۵ سالہ مس انڈیا نفیسہ جوزف نے اپنے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی۔ حالاں کہ اس وقت وہ نہایت کامیاب ماڈل بنی ہوئی تھیں۔ اُن کا یہ قول خود اُن کے اوپر صادق آیا کہ مشہور ہونا گویا پانی کے بلبلہ میں رہنا ہے جو کسی بھی لمحہ ٹوٹ سکتا ہے:

Being famous is like living in a bubble that can burst any moment. اس بمبئی سے ایک اور زیادہ اہم خبر آئی ہے جو انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) کے شمارہ ۲۲ اگست ۲۰۰۳ میں چھپی ہے۔ یہ مشہور صنعت کار جگی لال کملا پت سنگھانیہ کے پوتے گوتم سنگھانیہ کا انٹرویو ہے جو مذکورہ اخبار کے ضمیمہ (Times Life) کے صفحہ اول پر نمایاں طور پر چھپا ہے۔ مسٹر گوتم سنگھانیہ ہندوستان کے بڑے صنعت کاروں میں سے ایک ہیں۔ مگر دولت نے انہیں خوشی نہیں دی۔ دولت کے انبار میں رہتے ہوئے وہ مکمل طور پر بے سکونی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بمبئی میں اپنی بظاہر آرام دہ رہائش گاہ میں بیٹھ کر انہوں نے ٹائمس آف انڈیا کے نیوز نیٹ ورک سے ملاقات میں یہ باتیں کہیں۔

گوتم سنگھانیہ بظاہر تمام مادی چیزوں کے مالک ہیں—ایک ہزار کروڑ کی ایمپائر کا ورثہ، کئی ہوائی جہاز، کاریں، تفریحی کشتی، وغیرہ (مگران سب کے باوجود گوتم سنگھانیہ کو ۳۱ سال کی عمر میں بھی خوشی حاصل نہیں)۔ میں دنیا کے دس ایسے آدمیوں کے نام لے سکتا ہوں جو اتھا دولت کے مالک ہیں مگر وہ انتہائی غمگین زندگی گزار رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دولت، شہرت، اقتدار، یہ چیزیں آپ کو خوشی نہیں دے سکتیں:

The son of Vijaypat Singhania had it all, a thousand crore empire to inherit, planes, cars, yachts. I can name 10 people who have all the

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page