مادی ترقی کا سراب
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۷
money in the world, but are miserable. So, money, fame, power—these things can't make you happy. اصل یہ ہے کہ ہر انسان اپنے ذہن میں ایک پرُ مسرت دنیا (جنت) کا حسین تصور پیدائشی طور پر لیے ہوئے ہے۔ وہ اپنی ساری طاقت اسیتعمال کر کے دولت کماتا ہے تا کہ وہ اپنے تخیل کے مطابق، یہ حسین دنیا بنا سکے۔ مگر مادی اعتبار سے جب وہ سب کچھ حاصل کر چکا ہوتا ہے تو اُس پر منکشف ہوتا ہے کہ اُس کی بنائی ہوئی جنت میں اُس کو حقیقی سکون حاصل نہیں۔
یہ کم وبیش ہر انسان کا حال ہے۔ ہر انسان خود اپنے بنائے ہوئے خوبصورت مادی قبرستان میں دفن ہو رہا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی مطلوب دنیا لامحدود راحتوں کی دنیا ہے۔ ایسی دنیا موجودہ محدود عالم میں بن نہیں سکتی۔ وہ صرف موت کے بعد آنے والی دنیا میں بن سکتی ہے۔ یہ اگلی دنیا لامحدود بھی ہے اور ابدی بھی۔ اس کے ساتھ یہ ہوگا کہ انسان جب اگلی دنیا میں پہنچے گا تو اس کو ایک نیا وجود دیا جائے گا جو ہر قسم کی کمیوں سے پاک ہوگا۔ قرآن کے الفاظ میں، لوگوں کو چاہیے کہ وہ اسی دنیا کے حصول کی تیاری کریں لمثل هذا فليعمل العاملون (الصافات ٦١)
موجودہ دنیا میں اگر کوئی شخص اپنے لیے کامیاب زندگی کا نقشہ بنانا چاہتا ہے تو اس کو سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ اس معاملہ میں خدا کا تخلیقی نقشہ کیا ہے۔ اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر خدا کے تخلیقی نقشہ کی موافقت کر کے ہو سکتی ہے۔ خدا کے تخلیقی نقشہ کو نظر انداز کر کے کوئی شخص یہاں اپنے لیے کامیاب زندگی نہیں بنا سکتا۔
خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، موت سے پہلے کی عارضی دنیا صرف امتحان کے لیے ہے۔ اس نقشہ کے مطابق، مطلوب زندگی کی تعمیر صرف موت کے بعد کی زندگی میں ممکن ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کوشش کرے کہ وہ موت سے پہلے کے امتحان میں اپنے آپ کو کامیاب بنائے تا کہ وہ موت کے بعد کے مرحلہ حیات میں خدائی انعام کے طور پر اپنی مطلوب دنیا حاصل کر سکے۔ کامیاب زندگی کی تعمیر کا یہی واحد اصول ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues