Al-Risala · January 2005 · page

Great, I want to go to India.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

وہ یہی کہتا ہے کہ میں نے آپ کی کتاب الاسلام یتحدی پڑھی ہے۔ (لقد قرأت كتابك الاسلام یتحدی)

ابھی تک مجھے اس کتاب پر تنقید کرنے والا کوئی عرب نہیں ملا۔ صرف ریاض کے ایک صاحب ڈاکٹر عبد الرحمن الجہنی نے اصل کتاب کا اعتراف کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اس کا نام زیادہ صحیح طور پر الاسلام یُتحدی ہونا چاہیے۔ میں نے کہا کہ یہ نام میرا رکھا ہوا نہیں ہے بلکہ وہ قاہرہ کے مشہور عالم اور وکیل الازہر شیخ محمد عبد اللطیف دراز (وفات ۱۹۷۶) کا رکھا ہوا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ میرے نزدیک یہ نام درست ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جدید فکری چیلنج کے مقابلہ میں اسلام کا کیس اتنا زیادہ طاقتور ہے کہ وہ خود جدید الحادی افکار کو چیلنج دینے کی پوزیشن میں ہے۔ گویا کہ کتاب کے ٹائٹل کا مطلب ہے اسلام جوابی چیلنج کرتا ہے۔ اس معاملہ میں اسلام اقدام کی پوزیشن میں ہے نہ کہ صرف دفاع کی پوزیشن میں۔

میرے ساتھی نے فرانس کے نومسلم ڈنٹسٹ سے پوچھا کہ آپ یہودیت کو چھوڑ کر اسلام میں کیسے آئے۔۔ انہوں نے جواب دیا کہ پہلے گویا کہ میں چاند پر تھا اور اب زمین پر آ گیا ہوں: Earlier I was living on the moon, now I am living on earth. مذکورہ نومسلم کا مطلب یہ تھا کہ پہلے میں اپنی فطرت کی مطلوب دنیا کے لیے گویا خلا میں سرگرداں تھا اب میں نے اپنی فطرت کی آواز کے مطابق یہ مطلوب دنیا پا لی ہے۔ ان کو اسلام کی یہ دریافت ایک صوفی بزرگ کے ذریعہ ہوئی۔ وہ مادی دنیا سے غیر مطمئن تھے۔ مادی ترقیوں میں انہیں اپنی فطرت کا جواب نہیں مل رہا تھا۔ پھر جب وہ صوفی بزرگ سے ملے تو انہیں روحانیت کی سطح پر اپنی فطرت کا جواب مل گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اب نہایت اطمینان کی حالت میں ہیں۔ ان کو کامل ذہنی سکون مل گیا ہے۔ وہ اپنا زیادہ وقت ذکر اور تسبیح میں گزارتے ہیں۔ تاہم ان کے اندر میں نے عمومی دعوت کا جذبہ زیادہ نہیں پایا۔

موجودہ زمانہ میں مسلم علماء اور دانشوروں کے مطالعہ کا ایک ہی مشترک انداز ہے۔ وہ یہ کہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page