Al-Risala · January 2005 · page

Great, I want to go to India.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

مسلمانوں کے تمام مسائل و مصائب کو اہل مغرب کی سازش کا نتیجہ قرار دے کر شکایت اور احتجاج میں مشغول ہو جانا۔ اس کی ایک مثال ایک معروف اسلامی میگزین میں نظر آئی جس میں ایک مشہور مسلم دانشور کا مقالہ چھپا ہوا تھا۔ اس مقالہ میں بتایا گیا تھا کہ مغربی تہذیب کے علم بردار کس طرح مسلم دنیا پر اپنی ساری طاقت کے ساتھ حملہ آور بیس۔ اس مقالہ کا ایک حصہ یہ تھا:

۱۹۸۹ء میں جب روس نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلائیں، تو اسی سال کے اکانومسٹ (لندن) نے ایک خصوصی مضمون شائع کیا اور اس میں پوری تاریخ انسانی کے ہیں اہم لمحات بیان کئے اور ان میں آخری لمحہ روس کی پسپائی کے بعد بننے والا سیاسی اور تہذیبی نقشہ تھا۔ اس میں ایک جملہ بڑا اہم تھا۔ اس نے کہا کہ روس کی فوجیں تو واپس چلی گئیں، دیوار برلن بھی ٹوٹ گئی، اشتراکیت بھی پسپا ہوگئی لیکن کیا ہمارے پاس دنیا کو دینے کے لیے کوئی نیاحیات بخش نظریہ ہے جو اس خلا کو پر کر سکے۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ اس خلا کو پر نہیں کر سکتا اور پھر اپنے مخصوص انداز میں یہ بات کہی کہ البتہ مسلمانوں کو یہ زعم ہے کہ ان کے پاس ایک نظریہ ہے جو اس خلا کو پر کر سکتا ہے۔ گویا کہ یہ تنبیہ (warning) تھی کہ اب کشمکش کا جو نیا آہنگ ہے وہ کیا ہو سکتا ہے۔ اسلامی دانشور مزید لکھتے ہیں ــ اس کے دس سال کے بعد ایک اور دلچسپ چیز اکانومسٹ میں آئی اور وہ یہ تھی کہ انہوں نے یہ بتایا کہ آج سے ایک ہزار سال بعد روس کا ایک مؤرخ گزرے ہوئے ہزار سال کا جائزہ لیتا ہے۔ دو ہزار یے ختم ہو گئے ہیں۔ تیسرا ہزار یہ شروع ہو رہا ہے۔ وہ جائزہ لیتا ہے اور وہ جائزہ لیتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ سرد جنگ کے ختم ہونے کے بعد اور روس کی اور اشتراکیت کی پسپائی کے بعد امریکا ایک عالمی کردار لے کر اٹھا لیکن اس کے بعد پھر چین اور مسلم دنیا یہ دوئی قوتیں ابھریں اور اس طرح ایک نئی خلافت قائم ہوئی ۔ اس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ ایسا ہوگا۔ مقصد یہ تھا کہ ایسا نہ ہونے پائے ، ہمیں اس کے لیے پیش بندی کرنی چاہیے۔ یہی وہ خیالات ہیں جنہوں نے مغرب کی ذہنی اور فکری فضا بنائی ہے اور آج ان کے تھنک ٹینکس اور سیاسی قیادت سب اس پس منظر میں کام کرتے ہیں اور حکمت عملی بناتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page