Al-Risala · April 2005 · page 8

اخلاقی ماڈل

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۸

اخلاقی ماڈل

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعثت لاتمم حسن الأخلاق (مؤطا امام مالک ، حسن الخلق، مسند احمد ۲ / ۳۸۱) یعنی میں اس لیے بھیجا گیا ہوں تا کہ میں حسنِ اخلاق کی تکمیل کروں ۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ میں اس لیے بھیجا گیا ہوں تا کہ میں مکارم اخلاق کی تکمیل کروں۔

اخلاق سے مراد کسی انسان کا وہ سلوک ہے جو وہ دوسروں کے ساتھ کرتا ہے۔ جب بھی کسی انسان کا سابقہ دوسرے انسان سے پڑتا ہے، خواہ وہ خاندان کے اندر ہو یا خاندانی زندگی کے باہر، تو وہ اپنے قول و عمل سے کسی ایک یا دوسری صورت میں اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔ اسی اجتماعی سلوک کا نام اخلاق ہے۔

اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ انسان دوسروں کے ساتھ معاملہ کرنے میں بلند کرداری کا ثبوت دے۔ کوئی غصہ دلائے تو وہ اس کو معاف کر دے۔ کوئی کڑوا بول بولے تو وہ میٹھے بول کے ساتھ اس کا جواب دے۔ کسی سے شکایت ہو جائے تو وہ اس کے بارے میں وہی کہے جو حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔ وہ کسی کی بڑائی پر حسد نہ کرے۔ وہ کسی کے مال کا لالچ نہ کرے۔ وہ کسی کی برائی بیان نہ کرے۔ اُس کا سلوک ہمیشہ منصفانہ سلوک ہو۔ جب وہ وعدہ کرے تو اُس کو پورا کرے۔ جب اٗس کو کوئی امانت دی جائے تو وہ اس امانت کو ٹھیک ٹھیک لوٹائے۔ اُس کو کسی سے اختلاف ہو جائے تو وہ ایسا نہ کرے کہ وہ اُس کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے لگے۔ وہ فخر اور گھمنڈ کے مظاہرے سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ ہر سچائی کا کھلا اعتراف کرے، وغیرہ۔

اسی قسم کی روش کا نام اخلاق ہے۔ ہر پیغمبر نے ہر زمانہ میں انہی اخلاقی اصولوں کی تعلیم دی ہے ۔ خدا کی شریعت میں، توحید کے بعد جس چیز پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے وہ یہی اخلاق ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاقیات کی تکمیل کرنے کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب زندگی کے ہر

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page