اخلاقی ماڈل
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۹
شعبہ میں حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی زندگی میں ہر قسم کے واقعات پیش آئے۔ اس طرح آپ کو موقع ملا کہ آپ ہر معاملہ میں اخلاقی اصولوں کا عملی مظاہرہ کریں۔ اس طرح پیغمبر اسلام اخلاق کا ایک جامع ماڈل بن گئے۔
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان خياركم احاسنكم اخلاقا (البخاری، کتاب الادب، مسلم، کتاب الفضائل، الترمذی، کتاب البر، مسند احمد ۲ / یعنی تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اخلاق میں اچھا ہو۔ گویا کہ اخلاق آدمی کے ایمان و اسلام کی پہچان ہے۔ جتنا اچھا اخلاق، اتنا ہی اچھا اسلام۔
اصل یہ ہے کہ اخلاق کوئی علیحدہ صفت نہیں۔ وہ آدمی کے داخلی ایمان کا خارجی ظہور ہے۔ ایمان آدمی کے اندر خوفِ خدا اور تواضع جیسی صفات پیدا کرتا ہے۔ یہ صفات جب انسانی سلوک کی سطح پر ظاہر ہوں تو اسی کا نام اخلاق ہے۔
جو آدمی لوگوں کے ساتھ سرکشی کرے اُس نے خدا کے آگے بھی سرنڈر نہیں کیا۔ جو آدمی دوسروں کے مقابلہ میں فخر کا اظہار کرے وہ خدا کے ساتھ بھی عاجز نہیں بنا۔ جو آدمی دوسرے انسانوں کے ساتھ بے رحمی کا سلوک کرے اس کو گویا کہ اُس خدا کی معرفت حاصل نہیں ہوئی جس کی صفت قرآن میں رحمن و رحیم بتائی گئی ہے۔
ہر آدمی خدا اور بندوں کے درمیان ہوتا ہے۔ خدا کے مقابلہ میں اُس سے جو چیز مطلوب ہے وہ تقویٰ ہے اور انسان کے مقابلہ میں اُس سے جو چیز مطلوب ہے وہ حسنِ اخلاق ہے۔ انہی دونوں چیزوں کے مجموعہ سے وہ شخصیت بنتی ہے جس کو مومن کہا گیا ہے۔ یہ دونوں صفات ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ بلکہ وہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ جہاں تقویٰ ہوگا وہاں حسنِ اخلاق ہوگا اور جہاں حسنِ اخلاق ہوگا وہاں تقویٰ بھی ضرور پایا جائے گا۔ ایک چیز کا نہ ہونا اپنے آپ یہ ثابت کرتا ہے کہ دوسری چیز بھی وہاں موجود نہیں۔
اچھا اخلاق کیا ہے اور برا اخلاق کیا۔ اچھا اخلاق دراصل مثبت ردعمل کا دوسرا نام ہے۔ اور اسی
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues