Al-Risala · April 2005 · page 10

اخلاقی ماڈل

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۱۰

طرح برا اخلاق منفی ردعمل کا دوسرا نام۔ آدمی جب سماج میں جیتا ہے یا دوسرے لوگوں کے ساتھ کوئی کام کرتا ہے تو ہر وقت اس کو دوسروں کی طرف سے مختلف قسم کے سلوک کا تجربہ ہوتا رہتا ہے۔ ایسی حالت میں اگر وہ لوگوں سے مثبت ذہن کے ساتھ معاملہ کرے تو وہ اچھے اخلاق والا آدمی ہے اور اگر وہ لوگوں سے منفی سوچ کے ساتھ معاملہ کرے تو اس کو برے اخلاق والا آدمی کہا جائے گا۔ اس اخلاقی روش کا تعلق زندگی کے ہر شعبہ سے ہے۔ آدمی جہاں بھی ہو اور جس حال میں بھی ہو اس کو دو میں سے ایک روش کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی آدمی اچھے اخلاق والا انسان ہے یا برے اخلاق والا انسان۔

مثبت اخلاق یہ ہے کہ آدمی فریق ثانی کے رویہ سے غیر متاثر رہ کر اعلیٰ انسانی اصول کی روشنی میں اپنا کردار بنائے ۔ اس کے مقابلہ میں منفی اخلاق یہ ہے کہ آدمی فریق ثانی کی روش سے متاثر ہو جائے، وہ اعلیٰ انسانی اصولوں کو بھول کر جوابی کردار کا مظاہرہ کرنے لگے۔

حسن اخلاق دراصل ایک اعلیٰ انسانی اصول کا نام ہے۔ حسن اخلاق کا تقاضہ ہے کہ آدمی جہاں بھی ہو اور جس حال میں بھی ہو، وہ یک طرفہ طور پر اخلاقی اصول پر قائم رہے۔ وہ خاندان کے اندر بھی با اخلاق ہو اور پڑوس کے اندر بھی با اخلاق۔ وہ کسی ریاست کا عہدیدار ہو تب بھی وہ با اخلاق ہو اور تعلیمی ادارہ کا معلم ہو تب بھی با اخلاق ۔ وہ اسٹیج کا مقرر ہو تب بھی وہ با اخلاق ہو اور اخبار کا صحافی ہو تب بھی با اخلاق۔ وہ تاجر ہو تب بھی با اخلاق ہو اور گاہک ہو تب بھی با اخلاق ۔ وہ مقیم ہو تب بھی با اخلاق ہو اور مسافر ہو تب بھی با اخلاق۔

وہ دوستی میں بھی با اخلاق ہو اور دشمنی میں بھی با اخلاق ۔ وہ لینے کے وقت بھی با اخلاق ہو اور دینے کے وقت بھی با اخلاق۔ وہ اتفاق کے وقت بھی با اخلاق ہو اور اختلاف کے وقت بھی با اخلاق۔ وہ دباؤ کے وقت بھی با اخلاق ہو اور دباؤ نہ ہو تب بھی با اخلاق۔ وہ اپنوں کے ساتھ بھی با اخلاق ہو اور غیروں کے ساتھ بھی با اخلاق۔

حسن اخلاق کی روش پر قائم رہنے کی صورت کیا ہے۔ کیسے یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی آدمی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page