اخلاقی ماڈل
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۱۱
لوگوں کے ساتھ رہتے ہوئے حسن اخلاق کے اصولوں کو نہ چھوڑے۔ اس کا واحد راز محاسبہ (accountability) کا تصور ہے۔ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بار بار ایسے تجربے پیش آتے ہیں جو آدمی کو حسن اخلاق کی روش سے ہٹا دیں۔ ایسے موقع پر اگر آدمی اس احساس سے خالی ہو کہ خدا کے یہاں اس کی پکڑ ہونے والی ہے تو وہ اپنی خواہش پر چلے گا، وہ اپنے نفس کی پیروی کرنے لگے گا، اس کو جب کسی پر غصہ آئے گا تو وہ انتقام تک پہنچ جائے گا، وہ جب کسی کو اپنے سے بڑا دیکھے گا تو وہ حسد اور جلن کا شکار ہو جائے گا، اس کو کسی سے اختلاف ہو تو وہ بے انصافی کی بولی بولنے لگے گا، کسی سے اس کو ٹھیس پہنچے تو اس کو اس وقت تک چین نہیں آئے گا جب تک وہ اس سے بدلہ نہ لے لے۔ اس کے مقابلہ میں بداخلاقی کی روش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ آدمی خدا کی پکڑ سے بے خوف ہو جائے۔ اس کو یہ ڈر نہ ہو کہ اس کے منہ سے جو بول نکلیں گے وہ خدا کے یہاں لکھ لیے جائیں گے۔ وہ اپنے ہاتھ اور پاؤں سے جو عمل کرے گا وہ خدا کے یہاں، ریکارڈ ہو جائے گا اور پھر قول وعمل کے اس ریکارڈ کی بنیاد پر خدا کے یہاں اس کے لیے ابدی جنت یا ابدی جہنم کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جو آدمی حساب کے اس آنے والے دن سے بے خوف ہو جائے وہ بے قید ہو کر ہر وہ کام کرے گا جو اس کا جی چاہے، جو اس کے جذبات کو تسکین دینے والا ہو۔
موجودہ دنیا میں آدمی بظاہر اپنے آپ کو آزاد پاتا ہے۔ یہی آزادی ہر قسم کی بداخلاقیوں کی جڑ ہے۔ حسن اخلاق پر قائم رہنے کی واحد صورت یہ ہے کہ آدمی یہ سمجھے کہ وہ محاسب ومجازی خدا کے ماتحت ہے، وہ کسی بھی حال میں خدا کی پکڑ سے بچنے والا نہیں۔ یہ احساس آدمی کے اندر سلف کنٹرول کی اسپرٹ پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے آپ کو اخلاقی ڈسپلن میں رکھے ۔ وہ اپنے آپ کو اخلاقی اصولوں کا پابند بنائے۔ وہ خود اپنے ارادہ سے اپنے آپ کو اخلاق کی رسی میں باندھ لے۔
حسن اخلاق کا تعلق بظاہر دوسروں سے ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس کا تعلق سب سے زیادہ خود صاحب اخلاق سے ہوتا ہے۔ اخلاق کسی انسان کی تربیت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues