اخلاقی ماڈل
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۱۲
ایک قسم کے اخلاق سے اعلیٰ انسانی شخصیت بنتی ہے اور دوسرے قسم کے اخلاق سے بری شخصیت تشکیل پاتی ہے۔
آپ کو کسی سے اختلاف یا شکایت ہو اس کے باوجود آپ اس کے بارے میں انصاف کا بول بولیں تو آپ کا یہ بول آپ کے اندر ایک بلند انسانی شخصیت کی تعمیر کرے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ ایسا کریں کہ جس سے آپ کو اختلاف یا شکایت ہو جائے آپ ہر موقع کو استعمال کرکے اس کی کردار کشی (character assassination) کرنے لگیں تو اس کے نتیجہ میں آپ کے اندر ایک پست شخصیت بننے لگے گی۔ بداخلاقی کی روش خود اپنے آپ کو قتل کرنے کے ہم معنی ہے اور حسن اخلاق کی روش اپنے آپ کو نئی زندگی دینے کے ہم معنی۔
اس مثال سے دوسری صورتوں کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہر اخلاقی روش انسان کی اپنی شخصیت کو یا تو بناتی ہے یا بگاڑتی ہے۔ وہ انسان کے اپنے داخلی وجود کو یا تو زندگی دیتی ہے یا اس کو ہلاک کر دیتی ہے۔ حسن اخلاق سب سے پہلے آدمی کا اپنا مسئلہ ہے اور اس کے بعد وہ دوسروں کا مسئلہ۔ حسن اخلاق آدمی کو خدا کی رحمتوں کے سایہ میں پہنچانے والا ہے۔ اس کے برعکس بداخلاقی کی روش آدمی کو خدا کی رحمتوں سے دور کر دیتی ہے۔ بداخلاقی کا رویہ بظاہر آدمی کسی دوسرے کے خلاف کرتا ہے مگر عملاً وہ خود اس کے خلاف ثابت ہوتا ہے۔ آدمی اگر بداخلاقی کے اس نقصان کو جانے تو وہ کبھی کسی کے خلاف بداخلاقی کا طریقہ اختیار نہ کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues