Al-Risala · April 2005 · page 13

دعوتِ کا عمل

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۱۳

دعوتِ کا عمل

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے انسان کو آزمائش کے لیے پیدا کیا (الملک ۲) موجودہ دنیا میں انسان کو مکمل آزادی دی گئی ہے۔ یہ آزادی انسان کا ذاتی حق نہیں بلکہ وہ امتحان کی مہلت ہے۔ جو شخص خدا کے بتائے ہوئے نقشہ کے مطابق زندگی گزارے گا اس کو خدا ابدی جنت میں جگہ دے گا اور جو شخص خدا کے نقشہ کے خلاف چلے گا اس کو خدا ابدی جہنم میں ڈال دے گا۔ یہ نقشۂ حیات کیا ہے۔ اس کو بتانے کی ذمہ داری خدا نے خود اپنے اوپر لی ہے۔ قرآن میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ وان علینا للہدی (اللیل ۱۲) یعنی یہ خدا کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسان کو صحیح راستہ دکھائے:

Surely it is for God to guide mankind.

اس مقصد کے لیے خدا نے ایک قابلِ اعتماد انتباہی نظام (warning system) قائم کیا۔ اس انتباہ کے لیے خدا نے یہ کیا کہ انسان کی تاریخ کے آغاز ہی سے اپنے پیغمبر انسان کے پاس بھیجنا شروع کیا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا تا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت باقی نہ رہے (النسا ١٦٥) قرآن میں مزید بتایا گیا ہے کہ خدا کے یہ پیغمبر بلا وقفہ لگاتار بھیجے جاتے رہے (المؤمنون ۴۴) پیغمبروں کے اس سلسلہ کی آخری کڑی محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب تھے۔ ۶۳۲ ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ خدا کے فیصلہ کے مطابق، آپ کے بعد کوئی اور پیغمبر آنے والا نہیں۔ تا ہم نبوت کے کام کی ضرورت بدستور باقی ہے۔ خدا نے یہ فیصلہ کیا کہ پیغمبر آخر الزماں کے بعد لوگوں کو آگاہ کرنے کا یہ کام آپ کی امت کے ذریعہ انجام دیا جائے۔ خدا کے اس فیصلہ کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: تا کہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو (الحج ۷۸)

اس خدائی انتظام کے تحت یہ ہوا کہ پیغمبر آخر الزماں کے بعد حق کی پیغام رسانی کا کام آپ کی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page