Al-Risala · April 2005 · page 14

Surely it is for God to guide mankind.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۱۴

امت کے ذریعہ ہونے لگا۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف آخر سے لے کر اٹھارویں صدی کے نصف اول تک یہ کام بذریعہ امت مسلسل جاری رہا۔ اس کے بعد خدا نے اپنے خصوصی انتظام کے تحت دعوت کے اس کام کو خود انسانی تاریخ میں ایک عمل (process) کے طور پر داخل کر دیا۔ اس طرح اس انتہا ہی نظام کے تین دور قرار پاتے ہیں۔

۱۔ رسولوں کے ذریعہ آغاز انسانیت سے ساتویں صدی کے نصف اول تک۔

۲۔ امت محمدی کے ذریعہ ساتویں صدی کے نصف ثانی سے لے کر اٹھارویں صدی کے نصف اول تک۔

۳۔ تاریخی عمل کے ذریعہ اٹھارویں صدی کے نصف آخر سے لے کر بعد کے زمانہ تک۔ پیغمبر اسلام کے بعد آپ کی امت کو دنیا کے بڑے رقبہ میں سیاسی اقتدار حاصل ہو گیا۔ اس اقتدار کے زمانہ میں مسلمان نسل در نسل کم وبیش دعوت کے عمل کو انجام دیتے رہے۔ اس پر امن دعوتی عمل کی تفصیل ٹی ڈبلیو آرنلڈ کی ۵۰۸ صفحہ کی کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے: The preachings of Islam (1896)

اٹھارویں صدی میں یہ ہوا کہ یورپ کی نو آبادیاتی قومیں نئی طاقتوں سے مسلح ہو کر اٹھیں اور انہوں نے پوری مسلم دنیا پر سیاسی غلبہ قائم کر دیا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، مسلمانوں کے لیے یہ داخلی احتساب (introspection) کا وقت تھا مگر مسلم رہنما رد عمل کی نفسیات کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے اس وقت مسلمانوں کو شکایت اور احتجاج میں مبتلا کر دیا۔ وہ غالب قوموں کے خلاف نفرت اور انتقام کی نفسیات میں جینے لگے۔

یہ منفی ذہن ابتدا ء یورپی قوموں کے خلاف پیدا ہوا۔ اس کے بعد وہ پھیلتا رہا یہاں تک کہ وہ تمام غیر مسلم قوموں تک پہنچ گیا۔ یورپی، امریکی، عیسائی، یہودی، ہندو، غرض دنیا کی تمام قومیں مسلمانوں کے لیے نفرت کا موضوع بن گئیں۔ اس تبدیلی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان دعوت الی اللہ کے کام کے لیے پوری طرح نا اہل ہوگئے۔ انسانی خیر خواہی (human interest) ان کا کنسرن (concern)

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page