Great, I want to go to India.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵
ہمیں ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کا واقعہ اسی پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ واقعہ کیسے ہوا۔ کس نے کیا۔ کون کون معاون قوتیں تھیں۔ سارے واویلے کے باوجود ان سوالات کا جواب دینے کی کوئی کوشش نہیں ہوئی ہے اور نہ ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس ۱۹۸۹ء سے ۲۰۰۱ء تک نئے تہذیبی تصادم کی جو فضا بنائی گئی تھی اس واقعہ کو بنیاد بنا کر اس نقشہ میں رنگ بھر اجارہاہے۔ اکانومسٹ کے مذکورہ اقتباس میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس میں ایک مثبت پہلو موجود تھا۔ یعنی اسلام کا نظریاتی اعتراف۔ مگر اس سے ایک منفی نتیجہ نکال لیا گیا۔ یعنی یہ کہ مغربی قومیں خاص طورپر امریکا کی ساری پلاننگ اسلام کو مٹانے کے لیے ہو رہی ہے اور یہ کہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو ورلڈ ٹریڈ ٹاور کے ساتھ جو حادثہ ہوا وہ خود امریکا کی سازش کا نتیجہ تھا۔ چنانچہ اس کو استعمال کر کے اسلام کے خلاف سوچی سمجھی کارروائی شروع کر دی گئی۔ کمیونزم کے بعد اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانا امریکا کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے اور اسی کے تحت اس کی تمام جارحانہ کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ یہ تجزیہ سراسر بے بنیاد ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے یہ کہا جائے کہ اجودھیا کی بابری مسجد کو خود مسلمانوں نے ڈھایا تھا تا کہ وہ فرقہ پرست ہندوؤں کے خلاف اپنی دفاعی مہم کو تیز تر کر سکیں ۔ بدقسمتی سے آج تک مسلم دنیا کے تمام لکھنے اور بولنے والے اسی قسم کی منفی بولیاں بول رہے ہیں۔ ان بولیوں نے مسلمانوں کو منفی سوچ کا کارخانہ بنا دیا ہے۔ مجھے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ شاید منفی سوچ کا یہی وہ فتنہ ہے جس کو حدیث میں فتنۃ دھيماء کہا گیا ہے۔
اکانومسٹ کے مذکورہ اقتباس کا سب سے اہم جز اس کا یہ جملہ تھا: ’’البتہ مسلمانوں کو یہ زعم ہے کہ ان کے پاس ایک نظریہ ہے جو اس خلا کو پر کر سکتا ہے۔ ‘‘ یہ جملہ بتاتا ہے کہ خود مغربی جریدہ کے اعتراف کے مطابق ، جدید دنیا میں اسلام کے حق میں ایک قیمتی امکان موجود ہے۔ یہ دعوت کا امکان ہے۔ آج کی ترقی یافتہ دنیا کے پاس سب کچھ ہے مگر اُس کے پاس وہ چیز نہیں جس کو نظریہ حیات کہا جاتا ہے۔ جدید مغربی انسان کے پاس سامان حیات تو ہے مگر اُس کے پاس نظریہ حیات نہیں۔ یہ محرومی ایسے ہی ہے جیسے کسی شخص کا جسم تو موجود ہو مگر اُس کی روح اُس سے نکل گئی ہو۔ یہی حال آج کے مغربی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues