دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۲۳
دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب
اسلام میں، قرآن و حدیث کے بعد، فقہ کو شریعت کا تیسرا مآخذ سمجھا جاتا ہے۔ تا ہم فقہ ایک استنباطی یا اجتہادی علم ہے نہ کہ مبنی بروحی علم۔ فقہ کی تدوین رسول اور اصحاب رسول کے بعد عباسی خلافت کے زمانہ میں ہوئی۔ اس دور کے فقہاء نے قرآن و حدیث سے استنباط کر کے جو نئی اصطلاحیں وضع کیں ان میں سے تین اصطلاحیں یہ تھیں— دارالاسلام، دارالکفر اور دارالحرب۔ فقہاء نے اپنے مخصوص مزاج کے مطابق، دار الاسلام، دار الکفر اور دارالحرب کی ذیلی تقسیمات بھی کی ہیں اور اس طرح ہر ایک دار کو کئی دار کی صورت میں بیان کیا ہے۔ مگر یہ ذیلی تقسیمات ہمارے نزدیک اضافی ہیں۔ ہم نے ذیلی تقسیمات سے قطع نظر کرتے ہوئے اس مقالہ میں صرف بنیادی تقسیم کو سامنے رکھا ہے اور اس سہگانہ تقسیم کے اعتبار سے ہر ایک کے شرعی احکام بیان کئے ہیں۔ عباسی دور کے جن فقہاء نے یہ اصطلاحیں بنائیں ان میں سے ہر فقیہ کو بعد کے علماء نے مجتہد مطلق کا درجہ دے دیا تھا۔ اس لیے پچھلے ہزار سال میں کسی نے ان اصطلاحات کی صحت پر سوال نہیں اٹھایا۔ لیکن اگر کھلے ذہن کے ساتھ غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ فقہاء کی یہ اصطلاحات یقینی طور پر روح اسلام کے مطابق نہ تھیں۔
فقہاء کی بنائی ہوئی یہ اصطلاحیں قرآن و سنت میں موجود نہ تھیں۔ فقہاء نے اپنے حق اجتہاد کو استعمال کرتے ہوئے بطور خود ان اصطلاحوں کو وضع کیا۔ مگر یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ اجتہاد کی کچھ شرطیں ہیں۔ جائز اجتہاد وہی ہے جس میں یہ شرطیں پوری طرح پائی جاتی ہوں۔ جس اجتہاد میں یہ شرطیں نہ پائی جائیں وہ یقینی طور پر غلط اجتہاد قرار پائے گا۔ اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ: المجتہد يخطی ويصیب (مجتہد کا اجتہاد صحیح بھی ہوتا ہے اور غلط بھی)۔
اجتہاد شریعت کا ایک اصول ہے۔ علماء نے عام طور پر مانا ہے کہ اجتہاد کے اصول کا شرعی ماخذ وہ حدیث ہے جو صحابی رسول معاذ بن جبل کے حوالہ سے نقل ہوئی ہے۔ وہ حدیث یہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues