دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۲۴
: عن معاذ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حين بعثه إلى اليمن فقال كيف تصنع إن عرض لك قضاء قال أقضي بما في كتاب الله قال فإن لم يكن في كتاب الله قال فبسنة رسول الله قال فإن لم يكن في سنة رسول الله قال اجتهد رائی ولا آلو قال فضرب رسول الله صدری ثم قال الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضي رسول الله (ابوداؤد، كتاب الأقضية، الترمذی، کتاب الأحکام، النسائی، کتاب القضاة، ابن ماجه، کتاب المناسک، مسند احمد ۵ / معاذ بن جبل کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا تو اُن سے کہا کہ اگر تمہارے سامنے کوئی معاملہ پیش آئے تو تم اس کا فیصلہ کس طرح کرو گے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ فرمایا کہ اگر تم خدا کی کتاب میں نہ پاؤ۔ انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ کی سنت کی رُو سے فیصلہ کروں گا۔ فرمایا کہ اگر تم رسول اللہ کی سنت میں نہ پاؤ۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کوئی کُمی نہیں کروں گا۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ اس اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اللہ کے رسول کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی، جس پر اللہ کا رسول راضی ہے۔
علماء اور فقہاء کے نزدیک یہی حدیث اصولِ اجتہاد کا بنیادی ماخذ ہے۔ اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عالم کے لیے اجتہاد کرنا کب جائز ہے۔ وہ اُس وقت جائز ہے جب کہ خدا کی کتاب اور رسول خدا کی سنت میں زیر بحث مسئلہ کے بارے میں کوئی رہنمائی موجود نہ ہو۔ اگر کتاب و سنت میں متعلقہ مسئلہ کے بارہ میں واضح رہنمائی موجود ہو تو اجتہاد کرنا جائز نہ ہوگا۔ مثال کے طور پر قرآن سے ثابت ہے کہ روزہ رمضان کے مہینہ میں مقرر کیا گیا ہے۔ اب روزہ کے مہینہ کے بارہ میں کسی کے لیے کوئی نیا اجتہادی حکم وضع کرنا جائز نہیں۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ فرض نمازیں پانچ ہیں۔ ایسی حالت میں کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ فرض نمازوں کی تعداد کے بارہ میں اجتہاد کر کے اِس میں کمی یا بیشی کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues