دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۲۵
اس اصول کی روشنی میں دیکھیے تو دارالاسلام اور دارالکفر اور دارالحرب کی اصطلاحوں کے بارے میں کتاب وسنت میں واضح رہنمائی موجود ہے۔ ایسی حالت میں کسی عالم یا فقیہ کے لیے یہ درست نہیں کہ اس رہنمائی کے باوجود وہ اس معاملہ میں اجتہاد کر کے بطور خود نئی اصطلاحیں وضع کرے۔
فقہاء نے جن حالات کی نشاندہی کر کے ان کے تسمیہ (nomenclature) کے لیے یہ تین بنیادی اصطلاحیں وضع کی ہیں وہ حالات مبینہ طور پر دور نبوت میں موجود تھے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حالات کے لیے فقہاء جیسی اصطلاحیں مقرر نہیں فرمائیں۔ ایسی حالت میں اصطلاح سازی کا یہ معاملہ اجتہادی اجازت سے خارج قرار پائے گا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں عین اسی نوعیت کے حالات تھے جن حالات کے حوالہ سے بعد کو فقہاء نے دارالکفر کی اصطلاح وضع کی ۔ یعنی فقہاء کی تقسیم کے مطابق، بعثت سے لے کر ہجرت تک کا مکہ حکماً دار الکفر کی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر نہ قرآن میں اور نہ حدیث میں ایسا کوئی حوالہ موجود ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ قبل از ہجرت (pre-migration) کے لیے دارالکفر کی اصطلاح مقرر کی گئی۔
رسول اللہ کی ہجرت کے بعد اہل مکہ نے کھلے طور پر آپ کے خلاف مسلح کارروائی شروع کر دی۔ اس طرح ہجرت کے بعد مسلمان اور اہل مکہ ایک دوسرے کے خلاف برسر جنگ (at war) ہو گئے ۔ گویا ہجرت کے بعد (post-migration) مکہ میں عین وہی حالت پیدا ہو گئی جس کو ایک نام دینے کے لیے بعد کے فقہاء نے دارالحرب کی اصطلاح وضع کی۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، قرآن وحدیث میں بعد از ہجرت مکہ کے لیے کبھی ایسی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی۔ نہ قرآن میں اعلان کیا گیا کہ مکہ اب دارالحرب ہو چکا ہے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اُس وقت کے مکہ کے لیے دارالحرب کا لفظ استعمال فرمایا۔
جیسا کہ معلوم ہے، ہجرت کے بعد مدینہ میں پیغمبر اسلام کی سربراہی میں مسلمانوں کی وہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues