Al-Risala · April 2005 · page 26

دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۲۶

اجتماعی تنظیم قائم ہوگئی جس کو اسٹیٹ کہا جاتا ہے۔ اس طرح ہجرت کے بعد مدینہ میں عین وہی حالت پیدا ہوگئی جس کو بتانے کے لیے فقہاء دار الاسلام کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ مگر اب بھی ایسا نہیں ہوا کہ قرآن میں اُس وقت کے مدینہ کے لیے دارالاسلام کا لفظ استعمال کیا جائے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت کے مدینہ کو کبھی دار الاسلام کا لقب عطا فرمایا۔ قرآن میں جنت کے لیے دار السلام (یونس ۲۵) کا لفظ آیا ہے مگر کسی زمینی خطہ کے لیے دارالاسلام یا دار الایمان کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ اسی طرح قرآن میں منکرين حق کی اخروی قیام گاہ کو دارالبوار (ابراہیم ۲۸) کہا گیا ہے۔ مگر کسی زمینی خطہ کو قرآن میں دار الكفر يا دار الكفار نہیں کہا گیا۔ گویا کہ فقہاء کی تقسیم کے مطابق ، دار الاسلام ، دار الكفر اور دار الحرب جیسے حالات کی موجودگی کے باوجود یہ جائز نہیں کہ ان کو بتانے کے لیے دار الاسلام ، دار الحرب یا دار الكفر کے الفاظ استعمال کیے جائیں ۔ یہ اصطلاح سازی ایک بدعت ہے، نہ کہ سنت۔

مذکورہ تجزیہ واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ فقہاء نے جن ارضی تقسیمات کو بتانے کے لیے دار الاسلام اور دار الكفر اور دار الحرب کی اصطلاحیں وضع کیں، وہ تقسیمات خود زمانہ نبوت میں عملاً ظہور میں آچکی تھیں۔ مگر ان کو بتانے کے لیے کتاب وسنت میں ان سہگانہ اصطلاحوں کا استعمال نہیں کیا گیا۔ ایسی حالت میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ عباسی دور کے فقہاء نے ان اصطلاحوں کو وضع کرنے میں حدود اجتہاد سے تجاوز کیا۔ فقہاء نے ایک ایسے معاملہ میں اجتہاد کیا جس کے لیے انہیں شرعی طور پر مجاز نہیں کیا گیا تھا۔

ایسی حالت میں محفوظ طور پر صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ فقہاء کی یہ اصطلاح سازی اجتہادی خطا کا ایک واقعہ تھا، وہ یقینی طور پر اجتہادی صحت کا واقعہ نہ تھا۔ ایسی حالت میں اسلام کے ایک اسٹوڈنٹ کو جائز طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس اجتہاد کو تسلیم نہ کرے ۔ اگر شرعی زبان استعمال کی جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ ایک اصطلاحی بدعت تھی اور وہ بہر حال اس قابل ہے کہ اس کو رد کر دیا جائے۔ کیوں کہ حدیث میں واضح طور پر آیا ہے کہ: من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page