Al-Risala · April 2005 · page 27

دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۲۷

(البخاری، مسلم) یعنی جو شخص ہمارے دین میں کوئی نئی چیز نکالے جو اس میں نہیں ہے تو وہ قابلِ رد ہے۔ دار الاسلام اور دار الکفر اور دار الحرب کی اصطلاحات بطور خود وضع کرنے کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، یہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو عالمی طرزِ فکر (world view) سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ مسلمانوں کے ذہنی رخ کو متعین کرتا ہے۔ وہ مسلمانوں کی پوری سوچ کی تشکیل کرنے والا ہے۔ وہ مسلمانوں کے اندر شعب اللہ المختّار (chosen people) کا ذہن بناتا ہے۔ یہ ذہن کسی قوم کے تنزل کی علامت ہے، اور جیسا کہ معلوم ہے، یہ ذہن یہودیوں میں اس وقت پیدا ہوا جب کہ وہ تنزل کا شکار ہو چکے تھے۔

قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا انسانی معاشروں کو دار الاسلام اور دار الکفر اور دار الحرب میں تقسیم کر کے نہیں دیکھتا۔ خدا تمام انسانوں کو ایک نظر سے دیکھتا ہے اور ایک ہی اصول کی روشنی میں وہ تمام انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے والا ہے۔ چنانچہ قرآن میں مسلمانوں کے اس ذہن کی سختی سے تردید کی گئی ہے کہ وہ دوسروں کے مقابلہ میں خدا کے زیادہ محبوب بندے ہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا کے یہاں کسی شخص کی قدر و قیمت نسلی تعلق سے متعین نہیں ہوتی بلکہ اس کے ذاتی عمل سے متعین ہوتی ہے (النجم ۳۹) قرآن میں مسلمانوں کو یہودیوں کے ساتھ بریکٹ کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے: ليس بأمانيكم ولا أماني أهل الكتاب من يعمل سوء ا یجز بہ (النساء ۱۲۳) یعنی نہ تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو کوئی بھی برا کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ گروہی فضیلت یا گروہی نجات کا تصور قرآن میں ایک اجنبی تصور ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت کا مطالعہ کافی ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: بے شک جو لوگ مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی، ان میں سے جو کوئی ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور اس نے نیک کام کیا تو اس کے لیے اس کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور ان کے لیے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے (البقرہ ۶۲) یعنی مسلم گروہ، مسیحی گروہ، یہودی گروہ سب گروہی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page