Leche, Milk
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵
انسان کا ہے۔ یہ صورت حال ہمیں موقع دیتی ہے کہ ہم جدید انسان کو اسلام کے نظریۂ حیات سے متعارف کریں۔ گویا پیاسے انسان کو خدا کا پیدا کیا ہوا پانی پہنچادیں۔
یہ بات بے حد غور طلب ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ پچھلے دو سو برس کے اندر پیدا ہونے والے ہزاروں علماء اور مفکرین اسلام کی صحیح فہم سے عاجز رہے۔ وہ اسلام کو اس کی صحیح صورت میں پیش نہ کر سکے۔ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ یہ تمام لوگ اسلام اور مسلمان کو الگ الگ کر کے نہ دیکھ سکے۔ وہ دونوں کو ایک سمجھ کر ان کا مطالعہ کرتے رہے۔
مثلاً جب انہوں نے اسلام کو سمجھنا چاہا تو بعد کے زمانہ میں بننے والی مسلم تاریخ کو شامل کر کے اسلام کی تصویر بنائی۔ حالاں کہ یہ دونوں الگ الگ موضوعات تھے۔ اسی طرح جب انہوں نے مسلمانوں کی قومی لڑائیوں کو بیان کیا تو اس کو اسلامی جہاد کا عنوان دیتے رہے۔ اس غلط مطالعہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ لوگ نہ اسلام کو اس کی اصل صورت میں سمجھ سکے اور نہ مسلمانوں کے معاملات کا صحیح تجزیہ کر سکے۔
۱۴ دسمبر کی صبح کو ہوٹل کے مطعم میں ناشتہ کیا۔ یہاں کھانے کے لیے مختلف چیزیں موجود تھیں۔ دودھ کے ایک برتن کے اوپر مندرجہ ذیل الفاظ لکھے ہوئے تھے:
Leche, Milk
میرے ایک ساتھی اس کو گلاس میں لے کر آئے اور کہا کہ یہ لیچی کا ملک ہے۔ بظاہر اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ لیچی سے بنا ہوا دودھ ہے۔ یہ بات بڑی عجیب تھی۔ پھر میز پر بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے بتایا کہ یہ لفظ لیچی نہیں ہے بلکہ لٹھے ہے۔ اسپینی زبان میں اس کا مطلب دودھ ہوتا ہے۔ دودھ کے اس برتن پر انہوں نے ایک طرف اسپینی زبان میں لٹھے لکھ دیا اور دوسری طرف انگریزی زبان میں ملک۔ یہ دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ اس چھوٹی سی مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ غلط فہمیاں کس طرح پیدا ہوتی ہیں۔ میں اپنے تجربہ کے مطابق کہہ سکتا ہوں کہ زندگی میں اکثر اختلاف اور ٹکراؤ اور دشمنی کے واقعات صرف غلط فہمی کی بنا پر پیدا ہوتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاید انسان کے دین اور عقل دونوں کا
‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues