Al-Risala · April 2005 · page 34

Was he not a human being.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۳۴

مسلمان ختم نبوت کے بعد، ذمہ داری کے اعتبار سے نبی کے قائم مقام (الحج ۷۸) ہیں۔ اس لیے ان کا معاملہ بھی دوسری قوموں کے مقابلہ میں ناصح اور منسوح یا داعی اور مدعو کا ہے۔ یہ نسبت مسلمانوں کے اخلاقی کردار کی تشکیل کرتی ہے۔ داعیانہ نفسیات کا تقاضہ ہے کہ مسلمان دوسری قوموں کے مقابلہ میں یک طرفہ طور پر حسن کردار کی پابندی کریں۔ حتیٰ کہ وہ مدعو اقوام کی ایذاؤں پر صبر کریں۔ تا کہ دونوں کے درمیان دعوت کا ماحول باقی رہے۔

یہ داعیانہ کردار بلا شرط مطلوب ہے۔ اس یکطرفہ کردار کا تعلق جس طرح عوام سے ہے اسی طرح اس کا تعلق حکومت کے ذمہ داروں، پارٹیوں کے لیڈروں، میڈیا کے افراد اور دوسرے تمام سماجی طبقوں سے بھی ہے۔ مگر فقہ کی مذکورہ طبقاتی تقسیم نے اس تعلق کو توڑ دیا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کے دل میں دوسری قوموں کے خلاف شکایت اور نفرت کے جذبات بھر گئے۔ جب کہ مدعو ہونے کی حیثیت سے اُن کے ساتھ شکایت اور نفرت کا تعلق رکھنا اُن کے لیے جائز ہی نہ تھا۔ یہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ اس پورے معاملہ کا از سر نو جائزہ (re-examine) کیا جائے۔ از سر نو جائزہ سے کم تر کوئی چیز اس مسئلہ کا حل نہیں بن سکتی۔ یہ بلا شبہ ایک بے حد مشکل مسئلہ ہے۔ جب مسلم کمیونٹی کی تعداد ایک بلین سے زیادہ ہو جائے تو اس کے ساتھ بہت سے کمرشیل انٹرسٹ جڑ جاتے ہیں۔ اب ایک وسیع مسلم مارکیٹ وجود میں آجاتا ہے جس طرح یورپین مارکیٹ اور ایشین مارکیٹ جیسے مارکیٹ بنے ہوئے ہیں۔ اس مرحلہ میں پہنچ کر وہ مواقع پیدا ہو جاتے ہیں جب کہ دین کے نام پر دنیوی فائدے حاصل کیے جاسکیں ۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں یہود کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: لا تشتروا بآیاتی ثمناً قلیلاً (البقره ۴۱)۔

موجودہ زمانہ میں مسلم دنیا اسی قسم کا ایک وسیع مارکیٹ بن چکی ہے۔ تسبیح اور مصلیٰ سے لے کر لٹریچر اور اسٹیج سب اس میں قیمتی سامان فروخت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جو لوگ بھی مسلمانوں کے قومی جذبات کو فیڈ کریں وہ ان کے اندر اپنا عظیم بزنس ایمپائر کھڑا کر سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page