Was he not a human being.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۳۵
طویل مدت کے اندر بنے ہوئے اس ذہن کی تصحیح دراصل تجدید (revival) کا کام ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: من أحيا سنة اميتت بعدي فله اجر مأة شہید (جس نے میرے بعد میری کسی مردہ سنت کو زندہ کیا تو اس کے لیے سو شہیدوں کا اجر ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ سو بار لڑ کر شہید ہونا جتنا مشکل کام ہے اتنا ہی مشکل کام یہ ہے کہ کسی قوم کے اندر ایک ایسی سنت رسول کو دوبارہ زندہ کیا جائے جو صدیوں کے عمل سے گم ہوگئی ہو۔ اس کے لیے نہایت وسیع علم، دوررس منصوبہ بندی، گہری معرفت، حکیمانہ تدبیر، دانش مندی اور صبر کی وافر مقدار ضروری ہے۔ ان شرطوں کو پورا کئے بغیر اس قسم کا تجدیدی کام نہیں کیا جاسکتا۔
یہ کام وہ ہے جس کو تجدید دین کہا جاتا ہے۔ تجدید کے اس کام کو مؤثر طور پر انجام دینا لوگوں کے مائنڈ سیٹ کو توڑنے کے ہم معنی ہے۔ یہ کنڈیشنڈ ذہنوں کی ڈی کنڈیشننگ ہے۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو تاریخ کو ری پراس کرنے کا طالب ہے۔ یہ ہزار سالہ تاریخ کو حذف کر کے اسلام کے دور اول کی طرف لوٹنا ہے اور اسلام کا مطالعہ دوبارہ اس فریم ورک میں کرنا ہے جو اسلام کے دور اول میں تشکیل پایا تھا۔ امت کی نشاۃ ثانیہ کے لیے یہ کام بلاشبہ انتہائی حد تک اہم ہے۔
اس صورت حال نے امت کی اصلاح فکر کے کام کو بے حد مشکل بنا دیا ہے۔ جو لوگ اصلاح فکر کے اس مشن کو لے کر اٹھیں ان کو غیر مقبولیت کی قربانی دے کر یہ کام کرنا ہوگا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: بدأ الاسلام غريبا وسيعود كما بدأ فطوبى للغرباء ( صحیح مسلم بحوالہ مشکوۃ المصابیح رقم الحدیث (۱۵۹) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا اور وہ دوبارہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا کہ وہ شروع کے وقت تھا۔ تو مبارک ہیں وہ لوگ جو اس طرح اجنبی ہو جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues