Al-Risala · April 2005 · page 36

نکاح اور طلاق

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۳۶

نکاح اور طلاق

عورت اور مرد کے درمیان تعلق کی جائز صورت صرف ایک ہے، اور وہ اعلان کے ساتھ نکاح ہے۔ یہی طریقہ فطرت کے مطابق ہے اور اسلام میں اسی کی تعلیم دی گئی ہے۔ تاہم دو زندہ انسان جب ساتھ مل کر رہیں تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ اس اختلاف کو رفع کرنے کی صورت اسلام میں یہ بتائی گئی ہے کہ دونوں اس معاملہ میں مصالحت کا انداز اختیار کریں (النساء ۱۲۸) یعنی اختلاف کو مٹانے کی کوشش نہ کرنا بلکہ ناگزیر ضرورت کے طور پر اختلاف کو نظر انداز کرتے ہوئے زندگی گزارنا۔ یہی اس مسئلہ کا واحد فطری حل ہے۔

تاہم کبھی ایسا ہوتا ہے کہ عورت اور مرد تنظیم اختلاف (difference management) کے اس اصول کو اپنانے میں ناکام رہتے ہیں اور ایک دوسرے سے از دواجی علیٰحدگی کا ارادہ کر لیتے ہیں جس کو طلاق کہا جاتا ہے۔ اسلام میں ایک مجبورانہ ضرورت کے طور پر طلاق کو جائز کیا گیا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اس کی حوصلہ شکنی بھی کی گئی ہے۔ چنانچہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابغض الحلال الى الله الطلاق (مشکوة المصابیح) یعنی طلاق اگرچہ حلال ہے لیکن اللہ کے نزدیک وہ سخت ناپسند چیز ہے۔

طلاق کا ارادہ طرفین کے درمیان بیشتر حالات میں غصہ کی بنا پر پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے اسلام میں طلاق کا ایک ایسا طریقہ تجویز کیا گیا جو عملاً طلاق پر روک لگانے کے ہم معنی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: الطلاق مرتن فامساك بمعروف او تسريح باحسان (البقرہ ۲۲۹) یعنی طلاق رجعی دو بار ہے، اُس کے بعد دستور کے موافق یا تو رکھ لینا ہے یا بھلی طرح چھوڑ دینا ہے۔ یہ قرآن کے مطابق، طلاق کا مجوزہ طریقہ (prescribed method) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص طلاق دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو ایسا کرنا چاہیے کہ وہ پہلے مہینہ میں طہر کی حالت میں اپنی بیوی سے کہے کہ میں نے تم کو ایک طلاق دیا۔ اگر مہینہ پورا ہونے کے بعد بھی وہ طلاق

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page