Leche, Milk
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵
سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ غلط فہمی کے مواقع پر اپنے آپ کو غلط فہمی کے شکار ہونے سے بچا سکے۔ میرے نزدیک صرف دو قسم کے لوگ غلط فہمی کی مہلک برائی سے بچ سکتے ہیں۔ ایک وہ مومن جو خدا کی پکڑ کا خوف رکھتا ہو اور اس بنا پر وہ معاملات میں بے حد محتاط ہو گیا۔ ایسا آدمی دوسرے کے بارے میں بری رائے قائم کرنے سے اپنے کو بچائے گا تاکہ اس کو آخرت میں خدا کی طرف سے سزا کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کے اندر پورے معنوں میں ذہنی بیداری آ چکی ہو۔ جس کا شعور اتنا زیادہ بڑھا ہوا ہو کہ وہ جو کچھ سنے یا دیکھے اس کو وہ فوراً مان نہ لے بلکہ وہ اس کا عقلی تجزیہ کرے۔ وہ واقعہ کی اصل حقیقت تک پہنچ کر اپنی رائے بنائے۔ میرے تجربہ کے مطابق ، آج ننانوے فی صد لوگوں کے اندر دونوں میں سے کوئی ایک صفت بھی نہیں پائی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل بیشتر لوگ نہایت آسانی سے غلط فہمی کا شکار بن جاتے ہیں۔
مجھے اپنی ذات کے معاملہ میں بار بار یہی تجربہ ہوا ہے۔ میرے بارے میں لوگوں کے اندر عجیب و غریب قسم کی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ ان میں سے کوئی شخص جب مجھ سے دہلی میں ملاقات کرتا ہے تو وہ یہ کہہ کر واپس جاتا ہے کہ ہم تو آپ کے بارے میں اخباروں کو دیکھ کر عجیب قسم کا تصور رکھتے تھے۔ حالاں کہ آپ اسی طرح اسلام کے ایک عالم ہیں جس طرح دوسرا کوئی قابل احترام عالم۔
میرے بارے میں ان غلط فہمیوں کا ذریعہ صرف ایک ہے اور وہ اخبارات ہیں۔ اخبارات کا مزاج یہ ہے کہ جب کوئی شخص نیوز میں آ جائے تو وہ اس کے بارے میں سنسنی خیز قسم کی باتیں چھاپتے رہتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ ان کے قارئین دلچسپی کے ساتھ انہیں پڑھیں گے۔ اب دین اور عقل دونوں کا تقاضا ہے کہ میرے بارے میں رائے قائم کرنے والے میری اپنی تحریروں کی روشنی میں رائے قائم کریں نہ کہ اخباری رپورٹوں کی روشنی میں۔ کسی کو مزید تحقیق درکار ہو تو اس کو میرے پاس آ کر مجھ سے پوچھنا چاہیے۔ مگر لوگوں کے اندر نہ دینی سنجیدگی ہے اور نہ عقلی بصیرت۔ اس لیے وہ بے بنیاد طور پر غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues