And they say: Our heart are covered
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۴۲
اسی بات کو اقبال نے اس طرح بیان کیا ہے:
نوا را تلخ تر می زن چو ذوق نغمہ کم یابی حدی را تیز تر می خواں چو محمل را گراں بینی مگر یہ مفروضہ بجائے خود درست نہ تھا۔ ان رہنماؤں کا پہلا کام یہ تھا کہ وہ مسلم ملت کے افراد کی ڈی کنڈیشننگ کر کے اس کے اندر اسلام کی معرفت پیدا کریں۔ وہ اسلام کو ان کے لیے ری ڈسکوری (rediscovery) بنادیں۔
مثال کے طور پر انہوں نے کلمہ پڑھنے کو کافی سمجھا۔ حالاں کہ اصل ضرورت یہ تھی کہ وہ ہر شخص کے اندر کلمہ کا شعور پیدا کریں، وہ قائل کلمہ کو عارف کلمہ بنادیں۔ اسی طرح انہوں نے دشمنی کے حوالہ سے مسلمانوں کو ابھار کر انہیں دشمن کے خلاف جہاد کے لیے کھڑا کیا۔ حالاں کہ قرآن کے مطابق، جہاد (بمعنی قتال) کا تعلق دشمنی سے نہیں ہے بلکہ حملہ کے وقت دفاع سے ہے۔ انہوں نے فضیلت نماز کی کہانیاں سنا کر مسجدوں کو مسلمانوں سے بھر دیا۔ حالاں کہ پہلا کام یہ تھا کہ لوگوں کے اندر نماز کی اسپرٹ پیدا کی جائے جس کو قرآن میں خشوع کہا گیا ہے۔
اسی طرح انہوں نے اتحاد کے نام پر بڑے بڑے جلسے کر کے یہ سمجھا کہ وہ ملت کے اندر اتحاد پیدا کر رہے ہیں۔ حالاں کہ اتحاد کا راز شعور اتحاد ہے، یعنی لوگوں کے اندر یہ ذہن پیدا کرنا کہ وہ اختلاف کے باوجود اتحاد کے ساتھ رہ سکیں۔ انہوں نے فضائل قرآن کے نام پر لوگوں کو قرآن کی تلاوت کرنے والا بنایا۔ حالاں کہ پہلا کام یہ تھا کہ لوگوں کے اندر قرآن کی نسبت سے تدبر کا مزاج پیدا کیا جائے۔ انہوں نے اسٹیٹ کو اسلامائز کرنے کے نام پر بڑی بڑی تحریکیں اٹھائیں۔ حالاں کہ اصل کام یہ تھا کہ افراد کو اسلامائز کرنے کی کوشش کی جائے، وغیرہ۔
موجودہ زمانہ میں ہر رہنما مسلمانوں کے زوال کی شکایت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر لوگوں کو نہ تو یہ پتہ ہے کہ زوال کا حقیقی سبب کیا ہے اور نہ ان کو یہ معلوم ہے کہ اس زوال کو ختم کرنے کا نقطہ آغاز کیا ہے۔ میرے نزدیک اس کا نقطہ آغاز ذہن سازی ہے، نہ کہ عملی اقدام۔ اور ذہن سازی کا کام فرد کے ذہن کو ایڈریس کرنے سے ہوتا ہے، بھیڑ کو ایڈریس کرنے سے اس کام کا آغاز نہیں کیا جاسکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues