Al-Risala · April 2005 · page 43

And they say: Our heart are covered

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۴۳

اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ یہ شکےیت کر رہے ہیں کہ غیر مسلم قومیں ان کے اوپر ظلم کر رہی ہیں۔ وہ مسلمانوں کو اپنی زیادتی کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ ان کے نزدیک موجودہ مسلمان ان غیر مسلم طاقتوں کی سازش میں گھر گئے ہیں۔ ان باتوں کے نتیجہ میں موجودہ زمانہ کا مسلمان اس ذہنیت کا شکار ہو گئے ہیں جس کو محصور ذہنیت (besieged mentality) کہا جاتا ہے۔ مگر میں اس سوچ کو خلاف واقعہ سمجھتا ہوں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلم قوموں کے مقابلہ میں حفاظت کا معاملہ تمام تر دعوت پر منحصر ہے۔ قرآن کے الفاظ میں، عصمت من الناس کا راز تبلیغ ما انزل اللہ میں چھپا ہوا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان غیر مسلم قوموں کی طرف سے جس مغلوبیت کا شکار ہیں اس سے نکلنے کی صورت صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ مسلمان غیر مسلم قوموں کے اوپر دعوت الی اللہ کا فرض انجام دیں۔ یہ غیر مسلم قومیں مسلمانوں کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور مدعو گروہ کے مقابلہ میں صرف ایک چیز مطلوب ہے، اور وہ پر امن دعوت ہے۔ یہ معاملہ قرآن میں حضرت یونس کی مثال سے واضح ہوتا ہے۔ قرآن میں رسول کو مخاطب کرتے ہوئے امت محمدی سے کہا گیا ہے کہ : ولا تکن كصاحب الحوت (القلم ۴۸) یعنی تم مچھلی والے کی مانند نہ بننا ورنہ تمہارا حال بھی وہی ہو گا جو مچھلی والے (یونس) کا ہوا۔ مچھلی والے سے مراد حضرت یونس ہیں۔ ان کو خدا کا پیغام دینے کے لیے عراق کے قدیم شہر نینویٰ بھیجا گیا۔ انہوں نے وہاں کے لوگوں کو خدا کی طرف بلایا مگر ان کی طرف سے جلد مثبت رد عمل نہ ملنے کی وجہ سے وہ، قرآن کے الفاظ میں، ان سے غصہ ہو گئے اور ان کو چھوڑ کر نینویٰ سے باہر چلے گئے۔ خدا کو ان کی یہ روش پسند نہ آئی اور خدا کے حکم سے وہ ایک بڑی مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے جس کو قرآن میں ظلمات (الانبیاء ۸۷) کہا گیا ہے۔ یعنی شدید تاریکی۔

قرآن کے مطابق، حضرت یونس اس تاریکی کے اندر سے صرف اس وقت باہر آئے جب کہ انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور اس کے لیے تیار ہوئے کہ وہ دوبارہ اپنی مدعو قوم کی طرف جائیں اور انہیں خدا کا پیغام پوری طرح پہنچائیں۔ ابتدائی طور پر قرآن میں اس معاملہ کو ایک فرد

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page