نئی دہلی، ۱۳ دسمبر ۲۰۰۴ء دعا گو وحید الدین
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۴۴
(حضرت یونس) کی نسبت سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اس کو عام کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وكذلك ننجی المومنین (الانبیاء ۸۸)
اس عموم سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہی معاملہ تمام اہل ایمان کا ہے۔ تمام اہل ایمان کا یہی حکم ہے کہ اگر وہ اپنی دعوتی زندگی کو چھوڑ دیں تو اس کے بعد وہ مسائل کی اندھیری دنیا میں ڈال دئے جائیں گے۔ مسائل و مصائب کی اس اندھیری دنیا سے نکلنا ان کے لیے صرف اس وقت ممکن ہوگا جب کہ وہ ترک دعوت کے معاملہ میں اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کریں اور اپنی روش کو بدل کر دوبارہ دعوت کے میدان میں سرگرم ہو جائیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا کیس یہی ہے۔ وہ موجودہ زمانہ کی غیر مسلم قوموں سے "غصہ" ہو گئے اور ان کے خلاف نفرت اور تشدد کی مہم چلانے لگے۔ یہ خدا کی سنت کے خلاف تھا۔ چنانچہ وہ مسائل و مصائب کے اندھیرے میں ڈال دئے گئے۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان بڑی تعداد میں سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر یہ تمام سرگرمیاں کمیونٹی درک کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی سرگرمی دعوہ درک نہیں۔ کچھ لوگ دعوت کے نام پر تقریر و تحریر کے ذریعہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے قومی مناظرہ ہے نہ کہ دعوت الی اللہ۔
خلاصہ یہ کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دوبارہ زندگی دینے کے لیے دو نکاتی فارمولا یہ ہے--(۱) ان کے ساتھ وہ عمل کیا جائے جس کو قرآن میں یا ایھا الذین آمنوا آمنوا (آل عمران ۱۳۶) کہا گیا ہے۔ یعنی اے وہ لوگو جو کلمہ پڑھ کر مومن ہوئے ہو، شعوری دریافت کی سطح پر مومن بنو۔ (۲) یہ کہ مسلمان حقیقی معنی میں داعی بنیں اور دوسری قوموں کے ساتھ مدعو فرینڈلی تعلق قائم کریں۔ وہ مدعو قوموں کے خلاف نفرت اور تشدد کی تمام سرگرمیاں مکمل طور پر ختم کر دیں۔ احیائے ملت کی یہی دو شرطیں ہیں۔ ان دو شرطوں کو چھوڑ کر دوسری کوئی بھی سرگرمی مسلمانوں کو نئی زندگی دینے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔
نئی دہلی، ۱۳ دسمبر ۲۰۰۴ء دعا گو وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues