Al-Risala · January 2005 · page

Leche, Milk

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

کچھ لوگ میرے بارہ میں محض قیاس کی بنا پر ایک عجیب و غریب قسم کی غلط فہمی میں رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ الرسالہ میں سفر نامے اس لیے چھاپے جاتے ہیں کہ الرسالہ کے مرتب کے پاس مضامین کی کمی ہو گئی ہے۔ چنانچہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے الرسالہ میں سفر نامے چھاپے جا رہے ہیں۔ یہاں میں دو باتیں کہوں گا — اللہ کے فضل سے الرسالہ کے دفتر میں مضامین کی کمی نہیں، بلکہ برعکس طور پر مضامین کی افراط ہے۔ اس وقت بھی دفتر میں اللہ کے فضل سے اتنے زیادہ غیر مطبوعہ مضامین موجود ہیں جو انشاء اللہ کئی سال کے لیے کافی ہو سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ الرسالہ کا سفر نامہ محض سفر نامہ نہیں ہوتا۔ وہ خود متنوع مضامین کا مجموعہ ہوتا ہے۔ کوئی شخص الرسالہ میں چھپے ہوئے کسی بھی سفر نامہ کو دیکھے اور قلم کا غذ لے کر اس کے موضوعات کو نوٹ کرے تو انشاء اللہ وہ پائے گا کہ اُس کے ہر صفحہ پر ایک نیا مضمون ہے۔ در حقیقت سفر نامہ اور دیگر مضامین دونوں اسلوب کے فرق کے ساتھ ایک ہی چیز ہیں۔ سفر نامہ بھی مضامین کا مجموعہ ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس کا اسلوب بدلا ہوا ہے۔ گویا کہ جو بات عام مضامین میں کتابی مطالعہ کے حوالہ سے لکھی جاتی ہے، وہی بات سفر نامہ میں سفری تجربات کی نسبت سے کہی جاتی ہے۔

۱۴ دسمبر کی صبح کو کانفرنس کا رسمی افتتاح ہوا۔ یہ افتتاح اشبیلیہ کی ایک نو تعمیر عمارت میں ہوا۔ یہ وسیع اور عالی شان عمارت مراکو کے کنگ کے تعاون سے بنائی گئی ہے۔ اس میں جدید طرز کا بہت بڑا ہال ہے۔ بلڈنگ کے چاروں طرف ہرے بھرے لان اس کی خوبصورتی کو بڑھارہے ہیں۔ یہ خوبصورت عمارت مسلم عہد کے اسپینی طرزِ تعمیر پر بنائی گئی ہے۔ اس عمارت کا نام یہ ہے: کنگ حسن ثانی پویلین۔ ۱۴ دسمبر کو افتتاح کے بعد گروپ ڈسکشن ہوئے۔ میں جس گروپ ڈسکشن میں شریک ہوا وہ مختلف مذاہب میں وزڈم (wisdom) کے تصور پر تھا۔ میں نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ قرآن میں وزڈم کا تصور کیا ہے۔ قرآن میں وزڈم کو بہت اونچا درجہ دیا گیا ہے۔ تاہم قرآن کے مطابق، انسان کو علم قلیل دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس غور و فکر کے لیے جو فریم ورک ہے وہ محدود ہے نہ کہ لا محدود۔ اس فطری حقیقت کو ماننے کے بعد ہی انسان وزڈم کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page