Al-Risala · January 2005 · page

Leche, Milk

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

جو لوگ اس حقیقت کو نہ مانیں وہ صرف کنفیوژن تک پہنچیں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے اس دنیا میں صحیح معنوں میں عقلی ارتقاء مقدر نہیں۔

۱۴ دسمبر کو اشبیلیہ میں کنگ حسن ثانی پولین میں جن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے یروشلم کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ یہودی الون (Alon Goshen-Gottstein) تھے۔ ان سے اسلام کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ وہ اتنے ذہین تھے کہ چند جملوں میں پوری بات سمجھ جاتے تھے۔ میں نے کہا کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ آپ اسلام اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھیں: You have to differentiate between Islam and Muslims. پھر انہوں نے سوال کیا کہ موجودہ مسلمان اسلام کی غلط تصویر پیش کر رہے ہیں تو اب مسلمانوں کے ریفارم کے لیے آپ کا فارمولا کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ وہی فارمولا ہے جس کو حدیث میں احیاء (revival) کہا گیا ہے۔ یعنی مسلمانوں کے اندر دوبارہ اصل اسپرٹ پیدا کرنا۔ مزید گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ مسلمانوں کا یہ ظاہرہ دراصل ڈی جنریشن (de-generation) کا ظاہرہ ہے جو ہر مذہبی گروہ میں پیش آتا ہے۔ خود یہودیوں میں بھی پیش آچکا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہر مذہبی گروہ کی پہلی نسل میں مذہب اپنی پوری اسپرٹ کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔ پھر نسل در نسل زوال شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ مذہب اپنی اصل روح سے الگ ہو جاتا ہے۔ وہ صرف ایک کلچر بن کر رہ جاتا ہے۔ اس وقت مسلمان (اور اسی طرح یہودی اور عیسائی بھی اپنے اصل مذہب پر نہیں ہیں بلکہ بعد کے دور میں بنے ہوئے کلچر پر ہیں۔ ان میں فارم تو ہے مگر اصل روح گم ہو چکی ہے۔

انہوں نے اس تجزیہ سے اتفاق کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کا مشن اس سلسلہ میں کیا کر رہا ہے۔ میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ بتایا کہ ہمارا مشن یہی احیاء اسلام (revival of Islam) کا مشن ہے۔ ہم پچھلے چالیس سال سے یہی کام کر رہے ہیں۔ خدا کے فضل سے ہزاروں لوگوں کی زندگیوں میں ایک نیا انقلاب آیا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلموں میں بھی ہم نے بڑے پیمانہ پر یہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page