ایک ملاقات
الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۳۲
ایک ملاقات
۲۶ جون ۲۰۰۴ کو جین ٹی وی (نئی دہلی) میں ایک پینل ڈسکشن تھا۔ اس میں اینکر کے علاوہ تین آدمیوں نے حصہ لیا۔ ان کے نام یہ ہیں، پروفیسر امتیاز احمد (جواہر لال نہرو یونیورسٹی) مسٹر ترن وجے (ایڈیٹر ہندی روزنامہ پانچ جنیہ) اور راقم الحروف۔ اس ڈسکشن کا موضوع ہندو اور مسلمان تھا۔ مسٹر ترن وجے نے کہا کہ ہندوتو کوئی مذہبی چیز نہیں، وہ بھارتیہ کی پہچان ہے۔ اُس کا تعلق ہندو اور مسلمان سب سے ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہندوتو کو بھی فرقے اختیار کریں۔ مگر ہمارا یہ ارادہ نہیں کہ ہم اس کو دوسروں کے اوپر زبردستی امپوز (impose) کریں۔ میں نے کہا کہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ ہندوتو اگر آپ کا پرسنل ایجنڈہ ہو تو مجھ کو یا کسی کو اُس پر کوئی اعتراض (objection) نہ ہوگا۔ لیکن اگر آپ ہندوتو کو نیشنل ایجنڈہ بنانا چاہیں تو یہ ایک قابل اعتراض بات ہوگی۔ کیوں کہ پرسنل ایجنڈہ اور نیشنل ایجنڈہ کا معاملہ ایک دوسرے سے الگ ہے۔ ہمارے ملک میں آزادی ہے۔ اس لیے آپ کسی بھی چیز کو اپنا پرسنل ایجنڈہ اپنا سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ دوسروں کے لیے ضرر رساں (harmful) نہ ہو۔
مگر جہاں تک نیشنل ایجنڈہ کی بات ہے، اس کو آپ صرف اپنی خواہش کے تحت نہیں مقرر کر سکتے۔ نیشنل ایجنڈہ اسی چیز کی بنیاد پر بن سکتا ہے جو دستور ہند میں تسلیم کیا گیا ہو، ملک کی پارلیمنٹ نے اس کے حق میں قانون وضع کیا ہو یا سپریم کورٹ نے اُس کے حق میں اپنا فیصلہ دیا ہو۔ آپ جانتے ہیں کہ ہندوتو کا لفظ صرف ایک پارٹی کا لفظ ہے۔ دستور یا پارلیمنٹ یا عدالت نے ابھی تک اُس کو سند جواز عطا نہیں کی۔ ایسی حالت میں اگر آپ ہندوتو کو نیشنل ایجنڈہ بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو سب سے پہلے ملک کے دستور کو بدلنا چاہیے۔ پارٹی کے اسٹیج سے اس پر تقریر کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ کہنا درست نہیں کہ آپ اس کو زبردستی امپوز کرنا چاہتے ہندو تو جیسا ایک پروگرام کوئی سادہ پروگرام نہیں، وہ اپنے آپ میں اس کا طالب ہے کہ اس کو امپوز کیا جائے۔