Al-Risala · May 2005 · page 33

ایک ملاقات

الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۳۳

پھر میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اجودھیا میں رام مندر بنانا بھی ہندوتو کے ایجنڈہ کا ایک حصہ تھا۔ پھر آپ نے وہاں کیا کیا۔ آپ نے وہی کیا جس کو ’’اپوز‘‘ کرنا کہتے ہیں۔ آپ لوگ ایک بھیڑ کی صورت میں اجودھیا میں گھس گئے اور ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو یہ کیا کہ بابری مسجد توڑ کر وہاں ایک عارضی مندر بنا دیا۔ حالاں کہ یہ معاملہ ابھی تک عدالت میں زیرِ سماعت تھا۔ آپ لوگوں نے اجودھیا میں جو کچھ کیا اسی کا نام اپوز کرنا ہے۔

میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ ہندوتو کی صداقت پر یقین رکھتے ہوں تو آپ لوگ اپنی ذاتی زندگی میں ضرور اس کو استعمال کریں۔ مگر نیشنل لائف میں اس کو نافذ کرنا دستور، قانون، عدالت، کسی بھی لحاظ سے درست نہیں۔ مزید یہ کہ آپ لوگوں کے لیے ہندوتو کا پروگرام اب محض ایک نعرہ بن کر رہ گیا۔ آپ لوگوں کا پروگرام یہ تھا کہ ہندوتو کے نام پر ووٹ لے کر ملک میں حکومت بنانا اور ہندوتو کے اصول پر اُس کا نقشہ بدلنا۔

مگر انتخابات کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ آپ لوگوں کے لیے سرے سے ممکن نہیں۔ مئی ۲۰۰۴ کے الیکشن میں یہ بات آخری طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ ہندوتو کا گروہ اس ملک میں اقلیت کی حیثیت رکھتا ہے۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ تعلیم یافتہ ہندو آپ لوگوں کی حمایت نہیں کرتے۔ نچلی ذات کے ہندو آپ کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ مسلمان اور عیسائی آپ کو ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں۔ ایسی حالت میں یہ ناممکن ہے کہ آپ پارلیمنٹ میں مطلق اکثریت میں آسکیں اور جب تک آپ کو مطلق اکثریت حاصل نہ ہو، ہندوتو کو نیشنل ایجنڈہ بنانا سرے سے ممکن ہی نہیں۔

میں نے کہا کہ مشہور انگریزی مقولہ ہے— سیاست ممکن کا کھیل ہے، وہ ناممکن کا کھیل نہیں: Politics is the art of the possible. یہ فطرت کا ایک اصول ہے۔ کوئی بھی اس کو بدل نہیں سکتا۔ ایسی حالت میں کسی ناممکن اِشو کو لے کر اُس پر سیاست چلانا اپنا وقت بھی ضائع کرنا ہے اور دوسروں کا وقت بھی ضائع کرنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2005 All issues

Printed page