ٹیلی فون سے خطاب
الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۳۴
ٹیلی فون سے خطاب
۲۷ جون ۲۰۰۴ کو امریکا میں مقیم کچھ مسلمانوں نے میرے ایک ٹیلی فونی خطاب کا انتظام کیا۔ میں نے دہلی میں اپنے آفس کے ٹیلی فون پر ایک تقریر کی اور اسی وقت اس کو امریکا کے شہر فلا ڈلفیا کے اجتماع میں سنا گیا۔ یہ تقریباً ایک گھنٹہ کا پروگرام تھا۔ پہلے میں نے ۱۵ منٹ تقریر کی۔ اس کے بعد سننے والے ٹیلی فون پر سوال کرتے رہے اور میں ٹیلی فون پر اس کا جواب دیتا رہا۔ خطاب کے آغاز میں میں نے کہا کہ میں اپنی بات شکر خداوندی کے جذبہ سے شروع کرتا ہوں۔ یہ جدید کمیونی کیشن بلاشبہ ایک عظیم نعمت ہے جس نے اس بات کو ممکن بنایا کہ ایک شخص دہلی میں بولے اور عین اسی وقت امریکہ میں اس کو سنا جا رہا ہو۔
موجودہ زمانہ میں کمیونی کیشن کی طاقت کو زیادہ تر غیر مسلم قومیں استعمال کر رہی ہیں، اس لیے اکثر مسلمان یہ سمجھنے لگے ہیں کہ جدید کمیونی کیشن دراصل گلوبلائزیشن (globlization) کا ایک ہتھیار ہے، جس کے ذریعہ مسلم دشمن قومیں مسلمانوں کو اپنی غلامی میں جکڑ لینا چاہتی ہیں۔ یہ ایک بے شعوری کی بات ہے۔ جدید کمیونی کیشن کی حیثیت ایک طاقت کی ہے، جو بھی چاہے اس کو اپنے حق میں استعمال کر سکتا ہے۔
پھر میں نے کہا کہ اس وقت میں جہاد کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ جہاد آج کل بہت زیادہ نیوز میں ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جہاد کے معنی جنگ کے ہیں، مگر یہ درست نہیں۔ جنگ کے لیے قرآن میں قتال کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جہاد کے لفظی معنی کوشش یا جد و جہد کے ہیں۔ جہاد دراصل اس پر امن جد و جہد کا نام ہے جو کسی اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے کیا جائے ۔ جہاد عبادت کی طرح ایک مسلسل عمل ہے۔ جب کہ قتال صرف ایک وقتی کارروائی ہے جو خارجی حملہ کی صورت میں دفاع کے لیے کیا جائے۔
حدیث میں آیا ہے کہ جہاد اسلام میں چوٹی کا عمل ہے (وذروۃ سنامہ الجہاد) اس حدیث