Al-Risala · May 2005 · page 35

ٹیلی فون سے خطاب

الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۳۵

کی روشنی میں غور کیجیے تو جہاد کبھی متشددانہ عمل کا عنوان نہیں ہو سکتا۔ جہاد کی عظمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک مثبت عمل ہے نہ کہ منفی عمل ۔ حقیقت یہ ہے کہ عقل عام ہی یہ جاننے کے لیے کافی ہے کہ جہاد کی متشددانہ تعبیر درست نہیں:

Common sense is enough to understand that militant interpretation of Jihad is incorrect. قرآن کے مطالعہ سے جہاد کے دو مثبت پہلو معلوم ہوتے ہیں۔ ایک کو قرآن میں جہاد فی اللہ (Jihad in God) کہا گیا ہے اور دوسرے کو جہاد فی سبیل اللہ (Jihad for the sake of God) بتایا گیا ہے۔ یہ دونوں مثبت عمل ہیں، اور اصلاً انہیں کا نام جہاد ہے۔

جہاد فی اللہ (اللہ میں جہاد) کیا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دوسری جگہ اپنے آپ کو اللہ کے رنگ میں رنگنا بتایا گیا ہے: صبغۃ الله و من احسن من الله صبغۃ ۔ یعنی اپنی زندگی کو خدا کی پسند میں ڈھالنا۔ اپنی سوچ کو خدا رخی سوچ (God-oriented thinking) بنانا۔ اللہ کو معرفت کے درجہ میں حاصل کرنے کے لیے فکری عمل کرنا۔ اپنے جذبات اور احساسات کو خدا کے تابع بنانے کے لیے محنت کرنا۔ اپنے اوپر تزکیہ کا عمل جاری کرنا۔ خدا کے ساتھ خوف شدید اور حب شدید کا تعلق قائم کرنا۔ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کرنا۔ اپنے اندر اس شخصیت کی تعمیر کرنا جس کو قرآن میں نفسِ مذکی یا نفس مطمئن کہا گیا ہے۔ دنیا کی مشغولیتوں میں رہتے ہوئے خدا اور جنت کا طالب بن جانا۔

یہ جہاد بلاشبہ ایک مشکل ترین عمل ہے۔ یہ اپنی نئی تخلیق کے ہم معنی ہے۔ اسی لیے اس کو بڑا جہاد بتایا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام نے ایک بار اپنے دشمنوں کے خلاف اقدام کیا۔ آپ اس سے واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو آپ نے فرمایا: رجعنا من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر ۔ یعنی ہم چھوٹی جدوجہد سے واپس ہو کر بڑی جدوجہد کی طرف آئے ہیں۔

اس حدیث کے مطابق ، بڑا جہاد اس عمل کا نام ہے جو اس وقت مدینہ میں انجام دیا جاتا تھا۔ یہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2005 All issues

Printed page