Al-Risala · May 2005 · page 36

ٹیلی فون سے خطاب

الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۳۶

عمل کیا تھا۔ وہ تھا پیغمبر اسلام سے نصیحت لینا، قرآن کا مطالعہ کرنا، ذکر و عبادت میں مشغول رہنا، اجتماعی زندگی کی غلطیوں کو یک طرفہ برداشت کرنا۔

جہاد فی سبیل اللہ (اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا) کیا ہے۔ یہ قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ ارشاد ہوا ہے : و جاهد هم به جهاداً كبيراً ۔ یعنی ان کے اوپر قرآن کے ذریعہ بڑا جہاد کرو۔ یعنی قرآن کو لوگوں تک پہنچانے میں ان کی مدد کرو۔ ظاہر ہے کہ قرآن کوئی ہتھیار نہیں، وہ عقیدہ اور نظریہ کی ایک کتاب ہے۔ ایسی حالت میں قرآن کے ذریعہ جہاد کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی فکر کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ چنانچہ پیغمبر اسلام کی دعوتی سرگرمی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ آپ لوگوں کے پاس جاتے اور ان کو قرآن پڑھ کر سناتے (فأعرض عليهم الاسلام و تلا عليهم القرآن) یہ دونوں قسم کے جہاد سخت محنت کے طالب ہیں۔ مثلاً اگر آپ نفس مطمئن بننے کا فیصلہ کریں تو آپ کو زبردست جد و جہد کے مرحلہ سے گزرنا ہوگا، کیوں کہ زندگی میں ہر لمحہ لوگوں کی طرف سے تلخ تجربات پیش آتے ہیں۔ ایسی حالت میں ضروری ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو منفی نفسیات سے بچائے اور ہر حال میں اپنے آپ کو مثبت نفسیات پر قائم رکھے ۔ ایسا زبردست جد و جہد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ دعوتی جہاد بھی بلا شبہ ایک بے حد مشکل عمل ہے۔ دعوتی عمل ان لوگوں پر انجام دینا پڑتا ہے جو اکثر اہل اسلام کو اپنے دشمن کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ ایسی حالت میں دعوت کا عمل دشمن کے ساتھ یک طرفہ محبت و شفقت کے سلوک کے ہم معنی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو عظیم جد و جہد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

جہاں تک قتال (جنگ) کا تعلق ہے، وہ صرف ایک مقصد کے لیے پیش آتا ہے، اور وہ ہے، جارحانہ حملہ کے وقت دفاعی مقابلہ کرنا۔ اسلام میں قتال کی بہت سی شرطیں ہیں۔ ان شرطوں کے بغیر جو قتال کیا جائے وہ اسلام کا جائز کردہ قتال نہیں۔ اس کی لازمی شرط یہ ہے کہ صرف باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت ہی جنگ کا اعلان کر سکتی ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کو ہرگز جنگ کرنے کی اجازت نہیں۔ اگر کسی شخص یا جماعت کو یہ احساس ہو کہ جنگ کرنا ضروری ہو گیا ہے تو وہ صرف یہ کر سکتا ہے کہ حکومت

‹ Previous page Next page › Contents of May 2005 All issues

Printed page