ٹیلی فون سے خطاب
الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۳۷
وقت سے جنگی اقدام کے لیے کہے اور اپنے آپ کو مکمل طور پر امن کے حدود میں قائم رکھے۔ جنگ کے لیے اسلام نے جو شرطیں مقرر کی ہیں ان کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ناگزیر حالت میں صرف دفاعی جنگ جائز ہے۔ جنگ کی دوسری قسمیں مثلاً گوریلا وار، پراکسی وار، بلا اعلان وار اور جارحانہ وار اسلام میں ہرگز جائز نہیں۔
اسلام میں اقدامی عمل دعوت ہے نہ کہ جنگ۔ اسلام کا نشانہ انسان کو زندگی دینا ہے۔ انسان کو جہنم سے بچا کر جنت کا راستہ دکھانا ہے۔ انسان کو غیر خدا پرستی سے نکال کر خدا پرستی کی طرف لانا ہے۔ انسان کے اندر وہ اعلیٰ صفات پیدا کرنا ہے جو اس کو جنت کا داخلہ کا مستحق قرار دے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا اقدامی عمل کامل طور پر ایک تعمیری عمل ہے اور کوئی تعمیری عمل صرف پر امن ذرائع سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
خطاب کے آخر میں سوال وجواب کا پروگرام تھا۔ سامعین نے ٹیلی فون پر سوالات کئے اور میں نے ٹیلی فون پر ان کے جوابات دئے۔ ایک سوال یہ تھا کہ حال میں مجاہدین نے عراق وغیرہ میں کچھ لوگوں کو پکڑا۔ انہوں نے ان کو چند دن یرغمال بنا کر رکھا اور پھر ان کے سر کاٹ کر انہیں ہلاک کر دیا۔ ان واقعات کی رپورٹیں تصویر کے ساتھ مغربی میڈیا میں کثرت سے آئی ہیں اور ان کی وجہ سے لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اسلام ایک وحشیانہ مذہب ہے۔ میں نے کہا کہ اس طرح یرغمال بنانا اور گن یا تلوار کے ذریعہ انہیں ہلاک کرنا سراسر ایک حرام فعل ہے۔ اسلام کے نام پر کرنے کی وجہ سے ایسا عمل جائز نہیں ہوسکتا۔ اسلام میں سزا کا معاملہ مکمل طور پر ایک عدالتی معاملہ ہے۔ عدالت کے سوا کسی دوسرے کو ہرگز یہ حق نہیں کہ وہ بطور خود کسی کو مجرم قرار دے کر اس کی گردن کاٹے یا اس کو گولی مار دے۔ عدالتی سزا کے لیے بھی شہادت ضروری ہے۔ کوئی شخص اگر جرم کا فعل کرتا ہے تو وہ عدالت کے سامنے پیش ہوگا۔ ۔ معاملے کی تحقیق اور گواہوں کی گواہی کے بعد عدالت اپنا فیصلہ دے گی۔ اور حکومت اس کو طاقت کے ذریعہ نافذ کرے گی۔ اسلام میں جرم پر سزا کی اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں۔
ایک صاحب نے اس فلسطینی تحریک کے بارے میں سوال کیا جس کو انتفاضہ (resurgence)