Al-Risala · May 2005 · page 39

ٹیلی فون سے خطاب

الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۳۹

ایک خط محترمہ صوفیہ حیدر السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا خط مورخہ ۲۳ جنوری ۲۰۰۵ ملا۔ آپ کے حالات معلوم ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح آپ کی مدد فرمائے اور آپ کے کل کو آپ کے آج سے بہتر بنائے۔

زندگی ایک امتحان ہے۔ زندگی ہر ایک کے لیے وہی ہے جو کسی دوسرے کے لیے ہے۔ زندگی کو خوشگوار بنانے کا راز یہ نہیں ہے کہ ناخوشگواریوں کا خاتمہ ہو جائے۔ بلکہ اس کا راز یہ ہے کہ آدمی ناخوشگواریوں میں جینا سیکھ لے۔ وہ منفی تجربات کو مثبت سبق میں ڈھال لے۔ یہی الرسالہ مشن کا مقصد ہے۔ الرسالہ کا کوئی بھی شمارہ پڑھیے تو آپ کو اس میں یہی میسج ملے گا۔ مثال کے طور پر الرسالہ دسمبر ۲۰۰۴ کے صفحہ اول پر یہ پیغام درج تھا: "ماضی کی تلخ یادوں کو بھلانا، ہی مستقبل کی طرف کامیاب اقدام کی پہلی شرط ہے۔ " مجھے آپ کے حالات کا صحیح اندازہ نہیں۔ مگر ایک عمومی بات یہ ہے کہ زندگی ہر ایک کے لیے دوسرے موقع (second chance) کو استعمال کرنے کا نام ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی پہلے موقع کو کھوتا ہے۔ جو شخص پہلے موقع کو سبق میں ڈھال سکے وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ دوسرے موقع کو کامیابی کے ساتھ استعمال کر سکے۔ الرسالہ ایک اعتبار سے فطرت کے ابدی قانون کا تعارف ہے۔ اور فطرت کا قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر عسر کے ساتھ یسر لگا ہوا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی عسر اتنا بڑا نہیں کہ وہ یسر کے امکانات کو یکسر ختم کر دے۔ میں عرض کروں گا کہ آپ کسی بھی حال میں ہمت نہ ہاریں۔ آپ اپنے ذہن کی طاقتوں کو پھر سے مجتمع کریں۔ آپ اپنی زندگی کی از سر نو منصوبہ بندی کریں۔ جب آپ ایسا کریں گی تو مجھے یقین ہے کہ آپ اپنے حالات میں نئے امکانات کو دریافت کر لیں گی۔ آپ ایک ایسا نقطہ آغاز پالیں گی جس سے چل کر آپ دوبارہ اپنی مطلوب منزل تک پہنچ سکیں۔ نئی دہلی، ۳۱ جنوری ۲۰۰۵ وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of May 2005 All issues

Printed page