ٹیلی فون سے خطاب
الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۴۰
ایک خط
برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کے وطن ناگپور سے ایک کتاب شائع ہوئی ہے۔ اس کا نام یہ ہے: "حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی صاحب عرف علی میاں صاحب کے خطوط حضرت مولانا عبد الکریم پاریکھ صاحب کے نام"۔
۳۹۳ صفحات کی یہ کتاب ستمبر ۱۹۹۹ میں چھپی ہے۔ اس مجموعہ میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کے ۲۲۱ خطوط شامل ہیں۔ اس کے خط نمبر ۱۱۳ میں راقم الحروف کی کتابوں کے بارے میں منفی رائے دیتے ہوئے تحریر ہے:
میں یہ خط اس ضرورت سے بھی لکھ رہا ہوں کہ میرے پاس حیدر آباد سے ایک فہیم و سنجیدہ دوست کا خط آیا ہے کہ "ندوہ ایجنسی" کے نام سے سید جمیل الدین صاحب کی طرف سے جو اشتہار شائع ہوا ہے اس کا تعارف کرایا گیا ہے۔ اس میں میری کتابوں کے علاوہ جہاں بعض اور دوسرے حضرات کی تصنیفات کا تذکرہ ہے ان میں مولوی وحید الدین خاں کی کتابوں کے دستیاب ہونے کا بھی اعلان ہے۔ میں سید جمیل الدین صاحب کو براہِ راست نہیں لکھنا چاہتا۔ آپ اشارہ کر دیں کہ مولوی وحید الدین خاں صاحب کے بہت سے خیالات سے اتفاق نہیں، ہماری اور ان کی کتابوں کا جوڑ نہیں۔ اس لیے آئندہ سید جمیل الدین صاحب اس کا لحاظ رکھیں، آپ اپنے انداز میں مناسب طریقہ سے لکھ دیجئے گا۔ مجھے مولوی وحید الدین خاں صاحب سے کوئی ذاتی خصومت نہیں۔ لیکن ان کے خیالات میں سخت ناہمواری اور بے اعتدالی ہے اور سلف و مجاہدین وشہدائے اسلام سے بدعقیدگی پیدا ہوتی ہے"۔ (صفحہ ۲۰۴)
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی اس بات پر مجھے کوئی ذاتی شکایت نہیں البتہ اس کو پڑھ کر تعجب