ٹیلی فون سے خطاب
الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۴۱
ضرور ہوا۔ یہ الفاظ اس بات کا ثبوت ہیں کہ حضرت مولانا اس چیز سے کس قدر محروم تھے جس کو حدیث میں بصیرت زمانہ کہا گیا ہے۔ حضرت مولانا یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے ادارے کی کتابوں کو نہ پڑھیں، حالانکہ اب وہ زمانہ آچکا ہے کہ لوگ صرف ہمارے ادارے ہی کی کتابیں پڑھنا چاہتے ہیں۔ حضرت مولانا کے مذکورہ الفاظ تاریخ کے دھارے سے ٹکرانے کے ہم معنی ہیں۔ حالاں کہ کوئی بھی شخص اتنا طاقتور نہیں کہ وہ تاریخ کے دھارے سے ٹکرا سکے۔
یہ بلاشبہ نہایت اہم بات ہے۔ کوئی شخص آج اس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے۔ مگر عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب کہ یہ حقیقت اتنی زیادہ مبرہن ہو چکی ہوگی کہ اس کو نہ ماننا خود اپنی بے خبری کے اشتہار کے ہم معنی بن جائے گا۔
اصل یہ ہے کہ سلطان ٹیپو سے لے کر یا سر عرفات تک کا زمانہ وہ زمانہ تھا جب کہ ساری دنیا کے مسلمانوں پر جہاد (بمعنی قتال) کا نقطہ نظر چھایا ہوا تھا۔ ساری دنیا کے مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ مسلح جہاد ہی مسلمانوں کے مسئلہ کا واحد حل ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہر عمل کو جاری رکھنے کے لیے اس کی پشت پر ایک ایسا لٹریچر درکار ہوتا ہے جو اس کے لیے فکری تائید کا کام کرے۔ پچھلے زمانہ میں پیدا ہونے والا جہادی لٹریچر یہی کام کر رہا تھا۔ اس بنا پر مسلمانوں کے درمیان اس کو عمومی مقبولیت حاصل ہوئی۔ مگر اب عسکریت پسندی کا یہ دور ختم ہو گیا۔ اس لیے اب وہ لٹریچر بھی غیر متعلق (irrelevant) بن چکا ہے جو مسلح جہاد کے لیے فکری جواز (ideological justification) فراہم کر رہا تھا۔ شہدائے سیاست کو ماڈل بنا کر جو نام نہاد انقلابی لٹریچر تیار کیا گیا تھا وہ حالات کی تبدیلی کے بعد اب ایک فرسودہ (obsolete) لٹریچر کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
مسلح جہاد کی مکمل ناکامی کو دیکھ کر اب ساری دنیا کے مسلمانوں میں ایک نیا ذہن ابھرا ہے۔ یہ امن پسندی کا ذہن ہے۔ اب ساری دنیا کے مسلمان مسلح طریق کار کو چھوڑ کر پر امن طریق کار کو اپنا رہے ہیں۔ اس تبدیلی کا ثبوت پوری مسلم دنیا میں دیکھا جا سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اب ساری دنیا کے مسلمانوں کو ایک نئے لٹریچر کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا