Al-Risala · May 2005 · page 42

ٹیلی فون سے خطاب

الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۴۲

لٹریچر جو پرامن طریق عمل کے حق میں فکری تائید فراہم کرتا ہو۔ یہ ایک معلوم بات ہے کہ ہمارے ادارہ نے جو لٹریچر تیار کیا ہے وہ عین یہی لٹریچر ہے۔ وہ پرامن طریق عمل کے حق میں طاقتور فکری تائید کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسی حالت میں ہمارے ادارہ کی مطبوعات وقت کی مانگ کا جواب ہیں۔ اور جو چیز وقت کی مانگ کا جواب ہو اس کو کسی مخالف کی مخالفت یا کسی مفتی کا فتویٰ لوگوں تک پہنچنے سے روک نہیں سکتا۔

اس سلسلہ میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ حضرت مولانا علی میاں نے راقم الحروف کی کتابوں کے بارہ میں جو منفی رائے دی ہے وہ مکمل طور پر بلا دلیل ہے۔ میرے علم کے مطابق ،حضرت مولانا نے نہ اس مجموعہ خطوط میں اور نہ اپنی کسی دوسری تحریر میں یہ بتایا ہے کہ میرے کون سے خیالات ہیں جوان کے نزدیک غلط ہیں اور وہ کس دلیل کی بنیاد پر غلط ہیں۔ حضرت مولانا کی یہ روش یقینی طور پر غیر اسلامی ہے۔

اس دنیا میں ہر شخص کو آزادی حاصل ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے بعد کسی بھی شخص پر تنقید کی جاسکتی ہے۔ مگر ناقد کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ اپنی تنقید کے حق میں باقاعدہ حوالہ دے اور دلیل کے ذریعہ اُس کو برحق ثابت کرے۔ مدلل تنقید بلا شبہ ایک جائز فعل ہے لیکن غیر مدلل تنقید یقینی طور پر جائز نہیں۔ حدیث کے مطابق، ایک مسلمان کی عرض دوسرے مسلمان پر حرام ہے (کل المسلم علی المسلم حرام، دمہ ومالہ وعرضہ) مذکورہ قسم کی غیر مدلل تنقید بلا شبہ ایک مسلم کی عرض پر حملہ ہے۔ حضرت مولانا کا مذکورہ مکتوب اسی محرم فعل کے ارتکاب کے ہم معنی ہے۔ اس معاملہ میں کوئی بھی تو جیہہ اس کے جواز کے لیے کافی نہیں ہوسکتی۔ نئی دہلی، ۳۱ جنوری ۲۰۰۵ وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of May 2005 All issues

Printed page