Al-Risala · May 2005 · page 43

Muslim Identity in India

الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۴۳

خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۶۹

۱۔ کیرالا کے شانتی گری آشرم کی طرف سے کوٹایم (Kottayam) میں ایک انٹرنیشنل سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع امن اور روحانیت تھا۔ اس میں سابق صدر مسٹر کے آر نارائنن بھی شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور وہاں کے اجلاس میں حصہ لیا۔ یہ سیمینار ۳۔ ۵ جنوری ۲۰۰۵ کو منعقد کیا گیا۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ رسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

۲۔ انڈین ایکسپریس نئی دہلی کے نمائندہ ارونا داس گپتا (Arunava Dasgupta) نے ۷ جنوری ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویور لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر حج کے مقصد کے بارے میں تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ حج کا مقصد انسانی اور روحانی بنیاد پر لوگوں کا اتحاد ہے۔

۳۔ سب ٹی وی (نئی دہلی) کے تحت ۱۰ جنوری ۲۰۰۵ کو ان کے اسٹوڈیو میں جن سنسد کا پروگرام ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس کا موضوع یہ تھا: فیملی پلاننگ اور اسلام۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام میں زندگی کو ختم کرنا حرام ہے خواہ وہ بعد از وضع حمل ہو یا قبل از وضع حمل۔ مگر جہاں تک منع حمل کی تدابیر کا تعلق ہے، وہ اسلام میں جائز ہے۔

۴۔ انڈیا ٹی وی (نئی دہلی) نے ۱۲ جنوری ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو مسٹر موہن مشرا تھے۔ سوالات کا تعلق عورتوں کے مسجد میں نماز پڑھنے سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ مردوں کے لیے مسجد میں جاکر نماز پڑھنا ضروری ہے۔ مگر عورتوں کے لیے مسجد میں نماز پڑھنا اختیاری ہے۔ اس معاملہ میں عورتوں پر کوئی پابندی نہیں۔ مزید بتایا گیا کہ مکہ اور مدینہ کی مسجدیں جو نمائندہ مساجد کی حیثیت رکھتی ہیں وہاں روزانہ پانچ وقت مسلم خواتین آکر جماعت کے ساتھ نماز پڑھتی ہیں۔

۵۔ ٹیڈ سیونسن (Ted Sevensson) سویڈن کے رہنے والے ہیں۔ وہ لند یونیورسٹی (Lund University) میں ایک ریسرچ اسکالر ہیں۔ اُن کی ریسرچ کا موضوع یہ ہے:

Muslim Identity in India

۱۳ جنوری ۲۰۰۵ کو انہوں نے اس سلسلہ میں صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی اور اپنے موضوع پر ان کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کے دوران بتایا گیا کہ انڈیا میں مسلمانوں کا مستقبل نہ صرف محفوظ ہے بلکہ یہاں وہ ترقی کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ انڈیا کے مسلمانوں پر برطانی مؤرخ آرنلڈ ٹوائن بی کا نظریہ منطبق ہوتا ہے۔ غیر مسلم اکثریت ان کے لیے ایک نعمت ہے۔ کیوں کہ اس بنا پر وہ چیلنج کی حالت میں ہیں اور اس چیلنج کی بنا پر وہ دن بدن تخلیقی اقلیت (creative minority) بن رہے ہیں۔ آخر میں ان کو مندرجہ ذیل کتاب دی گئی: Indian Muslims: A Positive Outlook

‹ Previous page Next page › Contents of May 2005 All issues

Printed page