Al-Risala · January 2005 · page

1. Patience is the companion of wisdom.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

اسپین کی کانفرنس میں جو اہلِ علم اور اداروں کے نمائندے شریک ہوئے، ان کی تمام باتوں کا احاطہ اس سفر نامہ میں ممکن نہیں ہے۔ تاہم ان میں سے بعض حوالے یہاں نقل کیے جاتے ہیں تاکہ کانفرنس کے شرکاء کے خیالات کا ایک سرسری اندازہ ہو سکے۔

الون گوشن (Alon Goshen-Gottstein) ایک یہودی اسکالر ہیں۔ وہ یروشلم سے آئے تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اسرائیل کی بنیادی شناخت یہ ہے— اپنے آپ سے آگاہی اور اپنے اور غیر میں فرق کا احساس:

Awareness of self and otherness is fundamental to Israel's identity. میں نے اس کو سنا تو میں نے سوچا کہ یہودی نقطۂ نظر اور موجودہ مسلمانوں کے نقطۂ نظر میں بڑی عجیب مشابہت ہے۔ موجودہ مسلم فکر بھی انہی دو اجزاء سے بنا ہے۔ ایک، اقبال کے الفاظ میں خودی کا تصور اور دوسرا وہ جس کو ملّی شناخت کہا جاتا ہے۔ مگر جہاں تک میں نے سمجھا ہے، مسلم ذہن حقیقی معنوں میں صرف ایک تصور سے بنتا ہے اور وہ خدا کی معرفت ہے۔ بقیہ تمام چیزیں اسی کے براہ راست یا بالواسطہ اجزاء کی حیثیت رکھتی ہیں۔

اسٹیفن اسکائڑ (Stephen Skyes) نے اپنی تقریر میں کہا کہ اگرچہ مسیح نے یہ تعلیم دی تھی کہ اپنے دشمن سے محبت کرو مگر مسیحیوں اور دوسروں میں اختلافات کے نتیجہ میں دونوں کے درمیان نفرت کی سیاست نے جنم لیا:

Despite Jesus' teaching of love of the enemy, the marks of such historical opposition between Christians and others have given and continue to give rise to exclusionary politics of hatred. اس مسئلہ کا تعلق صرف مسیحیت سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ہر مذہب سے ہے۔ آج تمام مذہبوں کا یہ حال ہے کہ ان کی مقدس کتابوں میں تو امن اور محبت کی باتیں لکھی ہوئی ہیں مگر مذہب کے ماننے والوں نے اپنے مادی مفادات کی بنا پر، نہ کہ مذہب کی اصولی تعلیم کی بنا پر، دوسرے گروہوں سے مادی لڑائی چھیڑ رکھی ہے۔ یہ ظاہر و خود مسلمانوں کے یہاں بھی پایا جاتا ہے۔ ہنٹنگٹن

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page