1. Patience is the companion of wisdom.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵
(Samuel P. Huntington) نے اپنی کتاب تہذیبوں کا تصادم (Clash of Civilizations) میں تہذیبوں کے تصادم کی بات کہی ہے۔ مگر حقیقۃً یہ اہل تہذیب کا تصادم ہے نہ کہ خود تہذیب کا تصادم یا ٹکراؤ۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو ہنٹنگٹن کی کتاب کا زیادہ صحیح نام یہ ہونا چاہئے : Clash of Peoples of Civilizations ونسنٹ کارنل (Vincent Cornell) نے اپنے پیپر میں دوسری باتوں کے علاوہ ایک بات یہ کہی کہ اسلام ایک ٹائم بم کے اوپر بیٹھا ہوا ہے جو کسی بھی وقت یا تو اپنے داخلی سبب سے پھٹ سکتا ہے یا کسی عالمی سبب سے :
Islam is sitting on a time bomb that may explode to its own detriment and that of the world at large. جو بات اس اقتباس میں اسلام کے بارے میں کہی گئی ہے وہ مسلم گروہ کے بارے میں درست ہوسکتی ہے بلکہ شاید وہ درست ثابت ہورہی ہے۔ مگر جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اس کا معاملہ مسلمانوں سے الگ ہے۔ اس قسم کے تمام خطرات کا تعلق گروہ مسلم سے ہے نہ کہ مذہب اسلام سے۔ اشوک ووہرا (Ashok Vohra) نے ہندو ازم کے بارے میں اپنے خیالات پیش کئے ۔ انہوں نے ایک بات یہ کہی کہ انسانی ہمدردی ہندو مذہب کا فطری مزاج ہے۔ اس کی بنیاد تمام زندہ چیزوں کی فوق الفطری یکسانیت میں پائی جاتی ہے:
Hospitality is the natural state of the Hindu mentality, founded as it is upon a recognition of the metaphysical unity of all life. مقرر کا مطلب یہ تھا کہ ہندو ازم کے مطابق، انسان اور خالق انسان دونوں ایک ہی حقیقت کے اجزاء ہیں۔ اس لیے ہندو ازم میں ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان ہمدردی اور محبت ایک فطری تقاضہ ہے۔ یہ بات تقریباً تمام ہندو مفکرین کہتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ عملاً ایسا کیوں نہیں ۔ سوامی وویکا نند نے اعتراف کیا ہے کہ عملی ادویت واد جو کہ تمام انسانوں کو ایک روح کے طور پر سمجھتی ہے، ہندوؤں کے درمیان کبھی عملاً وجود میں نہ آسکا:
‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues