Al-Risala · June 2005 · page 8

It is a spiritual outing of a realized soul.

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۸

غروب کے الفاظ میں خلائی واقعہ کا بیان نہیں۔ اس کے بجائے اگر طلوع اور غروب کے مظاہر کو فلکیاتی سائنس کی زبان میں بیان کیا جاتا تو کلام کی تاثیر ختم ہو جاتی۔ یہی معاملہ اس قسم کے دوسرے قرآنی استعمالات کا ہے۔

مذکورہ تعلیم یافتہ مسلمان نے اپنے نظریہ کی تائید میں دوسری بات یہ کہی تھی کہ تجربہ بتاتا ہے کہ انسان کے قلب پر کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ خوشی کے وقت بھی اور غم کے وقت بھی۔ اس سے انہوں نے یہ قیاس کیا تھا کہ انسان کا دل سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ واقعات سے متاثر ہو کر مختلف قسم کی کیفیات میں مبتلا ہوتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں۔ اس لیے کہ اسی قسم کے احوال قلب کے علاوہ دوسرے جسمانی اعضاء پر بھی طاری ہوتے ہیں۔ مثلاً خوشی سے زمین پر پاؤں نہ پڑنا، خوف سے جسم کے رونگٹے کھڑے ہونا، گھبراہٹ کے وقت ہاتھ میں کپکپی طاری ہونا، ہول کے وقت آنکھوں میں اندھیرا چھا جانا، وغیرہ۔ ادبی استعمالات میں ان تمام کیفیات کو جسم کے مختلف اعضاء سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، ان کا تعلق دماغ سے ہے نہ کہ خود جسمانی اعضاء سے۔ میں روزانہ صبح کو بی بی سی لندن کی نشریات سنتا ہوں۔ میں نے ساتھیوں کو بتایا کہ آج بی بی سی کی رپورٹوں میں چند باتیں بڑی سبق آموز تھیں۔ وہ میں آپ کو مختصر طور پر بتاتا ہوں۔ ایک رپورٹ سرینگر کی تعمیرات کے بارے میں تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سرینگر کے اکثر مکانات اب بھی لکڑی کے ہیں۔ اس سلسلہ میں تفصیل بتاتے ہوئے رپورٹر نے ایک بڑی سبق آموز بات کہی۔ اس نے کہا کہ سرینگر لکڑیوں کا شہر ہے۔ مگر اس شہر کو دیمک نہیں کھارہی ہے بلکہ اس کو یہاں کے باشندوں کی بے شعوری کھارہی ہے۔ یہ بات مختلف پہلوؤں سے درست ہے۔ کشمیر صدیوں سے ایک پرسکون علاقہ تھا۔ یہاں کے لوگ عام طور پر خوش حال تھے۔ انسان کے جان و مال کو محترم سمجھا جاتا تھا۔ پورے علاقہ میں روحانی اور اخلاقی قدریں پھیلی ہوئی تھیں۔ مگر اکتوبر ۱۹۸۹ میں یہاں بے شعوری کا ایک عمل شروع ہوا۔ یہاں متشددانہ جہاد شروع کر دیا گیا۔ اس نام نہاد جہاد نے کشمیر کو ہر اعتبار سے تباہ کر دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page