آنچہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۹
عجیب بات ہے کہ متشددانہ جہاد شروع ہونے سے عین پہلے میں سرینگر گیا تھا۔ وہاں کے ٹیگور ہال میں میری تقریر ہوئی تھی۔ اس تقریر میں میں نے بولتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آپ نے متشددانہ تحریک شروع کی تو اس کے نتیجہ میں آپ لوگوں کو تباہی کے سوا اور کچھ ملنے والا نہیں۔ آخر کار وہ وقت آئے گا جب کہ آپ لوگ تشدد سے عاجز آ کر امن کی بولی بولنے لگیں گے۔ اس وقت میں نے اہل سرینگر کو فارسی کا ایک شعر سنایا تھا جواب ۱۵ سال کے بعد واقعہ بن چکا ہے۔ وہ یہ کہ جو کچھ دانش مند کرتا ہے وہی نادان بھی کرتا ہے، لیکن کافی بربادی کے بعد :
آنچہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
بی بی کے رپورٹر نے ایک اور خبر پاکستان کے آصف علی زرداری کے بارے میں سنائی۔ وہ سابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کے شوہر ہیں۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق ، بے نظیر بھٹو کی حکومت کے زمانہ میں انہوں نے کافی مالیاتی دھاندھلی کی۔ یہاں تک کہ ان کو مسٹر ٹن پرسنٹ کہا جانے لگا۔ آخر کار وہ پکڑے گئے اور عدالت سے ان کے لیے قید با مشقت کا فیصلہ ہوا۔ اب ۱۱ سال کے بعد وہ ضمانت پر جیل سے رہا ہوئے ہیں۔ رپورٹر نے ان سے پوچھا کہ جیل کی زندگی کے بارے میں آپ کا تجربہ کیا تھا۔ آصف زرداری نے کہا کہ جیل کی زندگی مصیبتوں سے بھری ہوئی ہے۔ اب میری بیک (پیٹھ) ایسی ہوگئی ہے کہ بیٹھنا میرے لیے ایک عذاب ہے۔ رپورٹر نے مزید پوچھا کہ نوجوانوں کے لیے آپ کا مسیح (پیغام) کیا ہے۔ آصف زرداری نے جواب دیا کہ میرا صرف ایک ہی مسیح ہے۔ وہ یہ کہ اپنی عزت اپنے ہاتھ۔ یعنی تم کوئی ایسا کام نہ کرو جو تمہاری عزت کو خطرہ میں ڈالنے والا ہو۔
"اپنی عزت اپنے ہاتھ کا اصول بلاشبہ ایک قیمتی اصول ہے۔ یہ اصول قدیم زمانہ سے چلا آرہا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس اہم اصول کو اکثر لوگ صرف اس وقت دریافت کرتے ہیں جب وہ اپنے آپ کو بے عزت کر چکے ہوں۔ حقیقی معنوں میں اس اصول کو جاننے والا وہ ہے جو اپنے کو دوسروں کے ہاتھوں بے عزت کروانے سے پہلے اسے جان لے۔ اسی انسانی کمزوری کو ایک فارسی شاعر نے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues