Al-Risala · June 2005 · page 10

من نکردم شما حذر بکنید

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۱۰

اس طرح بیان کیا ہے کہ میں پر ہیز نہ کر سکا مگر تم لوگ پرہیز کرنا:

من نکردم شما حذر بکنید

میں نے بتایا کہ بی بی سی کی ایک رپورٹ پاکستانی سیاست کے بارے میں تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے حکمراں پچاس سال سے یہ کہہ رہے تھے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان بنیادی مسئلہ صرف ایک ہے اور وہ کشمیر کا مسئلہ ہے۔ اس کے سوا تمام دوسرے مسائل ضمنی ہیں۔ پہلے کشمیر کا مسئلہ حل کرو، اس کے بعد دوسرے تمام مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے۔ اس کے مقابلہ میں انڈیا کے لیڈروں کا یہ کہنا تھا کہ کشمیر کے مسئلہ کو پر امن بات چیت کی میز پر رکھا جائے اور دوسرے تمام عملی مسائل طے کر لیے جائیں، مثلاً تجارت، تعلیم، آمد و رفت، ثقافتی تبادلہ (cultural exchange)، وغیرہ۔ یہ گویا ڈی لنکنگ (delinking) کی پالیسی تھی۔ یعنی کشمیر کے سیاسی مسئلہ کو بقیہ مسائل سے الگ کر دینا۔ دوسرے مسائل کو فوراً حل کرتے ہوئے سیاسی مسئلہ کو مستقبل کے خانہ میں ڈال دینا۔ مگر پاکستان کے حکمراں اور لیڈر کسی طرح اس کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ انہوں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان نفرت کو بھڑکایا۔ انہوں نے کئی جنگیں لڑیں۔ انہوں نے پراکسی وار چلائی۔ انہوں نے کشمیر کے اشو کو انٹرنیشنلائز کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ فوج کے اوپر لگا دیا۔ مگر جان و مال کی بھاری قربانی کے باوجود مثبت معنوں میں پاکستان کے حصہ میں کچھ بھی نہیں آیا۔ رپورٹر نے بتایا کہ اب پاکستانی لیڈر یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم یونی فوکل (uni-focal) نہیں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اب انہوں نے ڈی لنکنگ کی پالیسی کو ذہنی طور پر قبول کر لیا ہے۔

میں نے کہا کہ یہ ایک اچھی خبر ہے مگر میرے جیسے آدمی کو اس پر کوئی خوشی نہیں ہو سکتی۔ اس لیے کہ ان کا یہ اعتراف سارے قیمتی مواقع کو برباد کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ۱۹۴۷ میں جب پاکستان ایک نئے ملک کی حیثیت سے وجود میں آیا تو وہاں کے لوگوں کے اندر زبردست جوش تھا۔ لوگ امنگوں سے بھرے ہوئے تھے۔ ہر ایک کچھ کر ڈالنا چاہتا تھا۔ لیکن پاکستان کے سیکولر لیڈر اور اسلام پسند رہنما دونوں ہی اس ابتدائی ٹیمپو (tempo) کو تعمیری رخ پر

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page