من نکردم شما حذر بکنید
الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۱۱
لگانے میں ناکام رہے۔ اس کے بجائے دونوں ہی نے یہ کیا کہ لوگوں کے جذبات کو تخریب اور تشدد کی طرف موڑ دیا۔ اب معاملہ وہاں تک پہنچ چکا ہے جہاں سے لوگوں کے لیے یوٹرن (u-turn) لینا شاید ممکن نہیں۔
اس کے بعد میں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کسی معاملہ میں صحیح رائے قائم کرنے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت آرٹ آف تھنکنگ کی ہے۔ جس آدمی کے اندر آرٹ آف تھنکنگ کی صلاحیت ہو وہ معاملات کا صحیح تجزیہ کرے گا، وہ چیزوں کو صحیح رخ سے دیکھے گا۔ وہ متعلق (relevant) اور غیر متعلق (irrelevant) کے فرق کو جانے گا۔ وہ اس قابل ہوگا کہ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھے جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ وہ اس قابل ہوگا کہ وہ شبہ کے عناصر(elements of doubt) کو دور کر کے چیزوں کی اصل ماہیت کو سمجھے۔ یہی وہ صحیح الفکر انسان ہے جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے: ينظر بنور الله (وہ اللہ کی روشنی سے دیکھتا ہے)
ہماری گاڑی اپنی رفتار سے سڑک پر دوڑ رہی تھی اور سڑک کے دائیں اور بائیں دونوں طرف پھیلا ہوا سبزہ ہمیں یاد دلا رہا تھا کہ ہماری زمین کائنات کا کیسا انوکھا سیارہ ہے جہاں استثنائی طور پر پانی اور سبزہ اور ہوا جیسی زندگی بخش چیزیں موجود ہیں۔
ایک ساتھی نے سوال کیا کہ آرٹ آف تھنکنگ کی صلاحیت کو کس طرح اپنے اندر ڈیولپ کیا جا سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے ان میں سب سے زیادہ اہم چیز یہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن کو تعصب سے خالی کرے۔ وہ اپنے آپ کو متعصبانہ طرزِ فکر (biased thinking) سے مکمل طور پر بچائے۔ تعصب آدمی کو اندھا اور بہرا بنا دیتا ہے۔ چنانچہ وہ دیکھی ہوئی باتوں کو بھی نہیں دیکھتا اور سنی ہوئی باتوں کو بھی نہیں سمجھتا۔ میں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ۱۰ نومبر ۲۰۰۴ کی صبح کو میں وائس آف امریکا (ریڈیو) سن رہا تھا۔ اس میں ایک رپورٹ آرہی تھی جس میں ۲ نومبر ۲۰۰۴ کو ہونے والے امریکی الیکشن پر تبصرہ تھا۔ یہ الیکشن امریکی صدارت کے دو امیدواروں جان کیری اور جارج بش کے درمیان
‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues