Al-Risala · June 2005 · page 12

من نکردم شما حذر بکنید

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۱۲

تھا۔ اس الیکشن میں جارج بش جیت گئے۔ وائس آف امریکہ کے نشریہ میں مختلف ووٹروں کی آوازیں سنائی دیں۔ جارج بش کے ایک پرجوش سپورٹر نے کہا کہ اس الیکشن کے بعد پہلی بار میں نے یہ دریافت کیا کہ خدا وائٹ ہاؤس میں رہتا ہے:

For the first time I have discovered that God lives in White House. ایک طرف مذکورہ امریکی ووٹر ہیں جو جارج بش کی فتح کو سچائی کی اور خدا کی فتح سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف اسی امریکہ میں بسنے والے چھ ملین سے زیادہ مسلمانوں کا نظریہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ انہوں نے اس الیکشن کے موقع پر تقریباً متفقہ طور پر یہ مہم چلائی کہ جارج بش کو ہر اؤ اور جان کیری کو جتاؤ کیوں کہ ان کے خیال کے مطابق ، جارج بش کی سوچی سمجھی پالیسی یہ ہے کہ مسلمانوں کو تباہ کیا جائے۔ یہی نظریہ دنیا بھر کے تقریباً تمام مسلمانوں کا تھا۔ دنیا بھر کے مسلمان خواہ عرب ہوں یا غیر عرب سب کے سب یہ کہتے تھے کہ جارج بش اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے۔ جارج بش کی جیت مسلمانوں کی ہار ہے اور جارج بش کی ہار مسلمانوں کی جیت۔ مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے اپنے اپنے الفاظ میں یہی لکھ اور بول رہے تھے۔ اس معاملہ میں غالباً میں ساری دنیا میں واحد مسلمان تھا جو اس منفی سوچ میں شریک نہ تھا۔ میرا ماننا یہ تھا کہ کوئی بھی شخص ، بشمول جارج بش اسلام کا دشمن نہیں۔ قرآن اور حدیث کے مطابق ، ہر انسان ربانی فطرت پر پیدا ہوا ہے اور ہر انسان امکانی مسلم (potential Muslim) کی حیثیت رکھتا ہے ، حتیٰ کہ دشمن بھی (فصلت ۳۲)

ان دونوں رایوں کا تقابل کر کے آپ سوچ سکتے ہیں کہ کس طرح تعصب انسان کے ذہن کو متاثر کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ صحیح انداز میں سوچنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس واقعہ میں امریکی ووٹر نے بے جا محبت کی حد تک جارج بش کو اپنا سپورٹ دیا اور موجودہ مسلمان بے جانفرت کی حد تک جارج بش کے دشمن بنے ہوئے تھے۔ اس ذہنی کیفیت نے دونوں کو غلو میں مبتلا کر دیا۔ یہاں تک کہ دونوں ہی صحیح رائے قائم کرنے سے معذور ہو گئے۔

ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ یاسر عرفات (پیدائش ۱۹۲۹) فلسطینی تحریک کے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page