من نکردم شما حذر بکنید
الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۱۳
سب سے بڑے لیڈر تھے۔ وہ فتح (حركة تحرير فلسطين) کے بانی تھے جس کو عام طور پر پی ایل او (PLO) کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے خلاف اپنی تشددانہ تحریک کا آغاز ۱۹۶۹ میں کیا۔ ان کا نشانہ اسرائیل کو نیست و نابود کرنا (destruction of Israel) تھا۔ وہ اپنی دو انگلیوں سے ہمیشہ وکٹری کا نشان بنایا کرتے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف تشددانہ واقعات کئے۔ مثلاً ہائی جیکنگ، قتل، یرغمال بنانا، سوسائڈ بامبنگ، وغیرہ۔ مگر تمام تشددانہ کارروائیوں کے باوجود فلسطینی اسٹیٹ قائم نہ ہوسکی۔ آخر کار ۱۱ نومبر ۲۰۰۴ کو پیرس کے ایک اسپتال میں شدید مایوسی کے عالم میں ان کا انتقال ہوگیا۔
یاسر عرفات کی زندگی میں بہت سے سبق ہیں۔ مثلاً انہوں نے اپنی پوری تحریک تشدد کے اصول پر اٹھائی مگر جب انہوں نے دیکھا کہ تشدد صرف فلسطینیوں کی یکطرفہ تباہی کا سبب بن رہا ہے تو انہوں نے اپنی پالیسی بدلی اور امن کے اصول پر اپنی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا مگر جن فلسطینیوں کو وہ خود اپنی پرجوش تقریروں کے ذریعہ تشدد کے راستہ پر لا چکے تھے ان کو دوبارہ وہ امن کے راستہ پر لانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
میں نے کہا کہ یہی حادثہ اکثر لیڈروں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ انہوں نے ابتدائی جوش کے تحت ایک تحریک اٹھائی۔ بعد کو جب انہیں محسوس ہوا کہ وہ قابلِ عمل نہیں ہے تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یوٹرن (U-turn) لینے پر آمادہ کرنا چاہا مگر اس قسم کا یوٹرن ایک موٹر کار کے لیے تو ممکن ہے، مگر وہ انسان کے لیے ہرگز ممکن نہیں۔ چنانچہ یہ تمام لیڈر دوبارہ ناکام ہو کر رہ گئے۔ اس سلسلہ میں ایک مزید سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ ایک واقعہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر بہت سے اعلیٰ صلاحیت کے لوگ پیدا ہوئے۔ مثلاً جمال الدین افغانی، امیر شکیب ارسلان، سید قطب، آیت اللہ خمینی، ڈاکٹر محمد اقبال، محمد علی جوہر، ابو الکلام آزاد، عزت بیگوویچ، وغیرہ۔ ان لوگوں نے بہت بڑی بڑی تحریکیں اٹھائیں اور اس کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دیں۔ مگر یہ تمام تحریکیں سراسر بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues