Al-Risala · June 2005 · page 14

من نکردم شما حذر بکنید

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۱۴

ان لیڈروں کی ناکامی کا مشترک سبب یہ تھا کہ انہوں نے ممکن اور ناممکن کا فرق نہیں سمجھا۔ وہ اپنی ہمالیائی کوششیں ناممکن کے میدان میں صرف کرتے رہے۔ حالانکہ اگر یہ لوگ ممکن دائرۂ عمل اور ناممکن دائرہ عمل کے فرق کو جانتے اور ممکن دائرہ عمل میں اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے تو یقینی طور پر ان کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوتیں اور ملتِ کار کا ہوا قافلہ آگے بڑھ چکا ہوتا۔ اس کے بعد پروگرام کے مطابق ٹیم کے ہر ممبر نے اپنا کوئی تجربہ بتایا اور پھر اس تجربہ پر گفتگو ہوئی۔ ۱۔ نغمہ صدیقی نے بتایا کہ حال میں پاکستان کے ڈاکٹر اسرار احمد دہلی آئے۔ یہاں ان کے کئی لکچر ہوئے۔ ۲۳ اور ۲۵ نومبر ۲۰۰۳ کو نغمہ صدیقی نے ان کے دو لکچر سنے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ساری دنیا میں اسلامی حکومت قائم کرے۔ اس کے بغیر ان کا اسلام ادھورا ہے۔

میں نے کہا کہ نو آبادیاتی دور میں جب مسلمانوں کا سیاسی غلبہ ختم ہوا تو اس کے بعد ساری مسلم دنیا میں اس کے خلاف ردعمل ظاہر ہوا۔ اس ردعمل کے دو مظہر تھے۔ ایک وہ لوگ تھے جنہوں نے اس کو صرف ایک پولیٹیکل اشو کے طور پر اٹھایا۔ اس کی قیادت سید جمال الدین افغانی نے کی۔ دوسرا مظہر وہ تھا جس میں اس سیاسی ردعمل کو اسلامائز کیا گیا۔ یعنی دوبارہ مسلمانوں کی حکومت قائم کرنے کو مسلمانوں کی مذہبی ڈیوٹی بتایا گیا۔ اس سیاسی تعبیر میں ایک نمایاں نام سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد اسی دوسرے مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔

میں نے کہا کہ سید جمال الدین افغانی کا نعرہ تھا: الشرّق للشرقيين (مشرق مشرقیوں کے لیے) دوسرا مکتب فکر وہ تھا جس کے نمایاں لیڈر سید ابوالاعلیٰ مودودی تھے۔ انہوں نے اس معاملہ کو اسلامی اصطلاحوں میں بیان کیا۔ ان کی فکر کو ایک لفظ میں اس طرح کہہ سکتے ہیں: دنیا مسلمانوں کے لیے۔ یعنی مسلمان زمین میں خلیفۃ اللہ ہیں۔ ان کو حق ہے کہ وہ خدا کی نیابت میں دنیا پر حکومت کریں۔

یہ نظریہ قرآن میں بالکل اجنبی ہے۔ قرآن کے مطابق، سیاسی اقتدار ایک امتحانی پرچہ ہے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page